میری زندگی کے دو ہی مقاصد ہیں ، ایک ڈیموں کی تعمیر اور دوسرا ۔۔۔۔۔۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ایک جملے نے پوری قوم کا دل خوش کر دیا

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ میری زندگی کے دو ہی مقصد ہیں ایک ڈیمز کی تعمیر اور دوسرا قرض اتارنا۔سپریم کورٹ میں کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کچی آبادیوں میں رہنے

والوں کو بدترین مسائل کا سامنا ہے، کچی آبادیوں والے بھی انسان ہیں۔ میری زندگی کے دو ہی مقصد ہیں، پہلا مقصد ڈیمز کی تعمیر اور دوسرا قرض اتارنا، ریٹائر ہو کر بھی اس پر کام جاری رکھوں گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک لاکھ 17 ہزار کا مقروض ہے، ہم نے اپنی پانچ نسلوں کو مقروض کر لیا ہے، ہمیں آئندہ آنے والی نسلوں کو مقروض چھوڑ کر نہیں جانا، ڈیمز اور پانی والے مسئلے کے بعد قرضوں والا کام شروع کریں گے۔واضح رہے کہ کچھ دن قبل چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کیلئے ایک کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے جس طرح پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کے تناظر میں دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈقائم کرنے احکامات دیے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں عوام کے دکھوں کا کس قدر احساس ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق 4جولائی کے حکم کی روشنی میں اکاؤنٹ کھول دیے گئے ہیں، جن میں دس لاکھ کا عطیہ جمع کروا کر فاضل چیف جسٹس پہلے ڈونر بن گئے ہیں ۔اس حوالے سے عطیات سٹیٹ بینک ، وزارت خزانہ اور ملک بھر کے تمام شیڈول بینکوں میں جمع کروائے جا سکتے ہیں ۔ جبکہ اوورسیز پاکستانی مخیر حضرات اس کیلئے متعلقہ ملک میں قائم سفارت خانوں کے ذریعے بھی فنڈز جمع کروا سکتے ہیں ۔ فاضل چیف جسٹس نے پوری قوم اور تارکین وطن پاکستانیوں سے اس فنڈ میں زیادہ سے زیادہ عطیات جمع کرانے کی اپیل کی ہے۔چیف جسٹس کی اپیل پر ان ڈیموں کی تعمیر کیلئے قائم کئے گئے فنڈ میں مختلف اداروں اور شخصیات کی طرف سے عطیات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانے اور فنڈز جمع کروانے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی بھی بھر پور ضرورت ہے۔ ۔(ش۔ز۔م)