You are here
Home > پا کستا ن > لڑکی نے پیر صاحب سے پوچھا میرے دو رشتے آئے ہیں کون خوش نصیب ہوگا، پیر صاحب بولے شادی پہلے رشتہ سے ہوگی اور دوسرا خوش نصیب ہوگا۔۔۔۔ ملاحظہ کیجیے سیاسی ڈرامہ بازوں کی گیم بے نقاب کر دینے والا لطیفہ

لڑکی نے پیر صاحب سے پوچھا میرے دو رشتے آئے ہیں کون خوش نصیب ہوگا، پیر صاحب بولے شادی پہلے رشتہ سے ہوگی اور دوسرا خوش نصیب ہوگا۔۔۔۔ ملاحظہ کیجیے سیاسی ڈرامہ بازوں کی گیم بے نقاب کر دینے والا لطیفہ

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) ہومیو پیتھک اور پیپلز پارٹی میں ایک چیز مشترک ہے دونوں کا اگر فائدہ نہیں تو کوئی نقصان بھی نہیں، سو اگر وہ طاہر القادری کے پاس چلی بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ کنٹینر میں دو کرسیوں کا اضافہ ہوگا، مجھے تو اب اندازہ ہوا ڈاکٹر طاہر القادری اسی انقلاب کے منتظر تھے۔ ان کی پاکباز نگاہیں آصف زرداری کا ایسے طواف کررہی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں ’’تم ہی تو ہو محبوب میرے، میں کیوں نہ تمہیں بور کروں‘‘

نامور کالم نگار ایثار رانا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لڑکی نے پیر صاحب سے پوچھا میرے دو رشتے آئے ہیں کون خوش نصیب ہوگا، پیر صاحب بولے شادی پہلے رشتہ سے ہوگی اور دوسرا خوش نصیب ہوگا، لیکن یہاں لگتا ہے قائد انقلاب پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی دونوں کا رشتہ قبول کرلیں گے۔ عالم فاضل ہیں دونوں رشتے سنبھالے رکھنے کا کوئی شرعی عذر بھی تلاش کرلیں گے۔ دلہن بولی خیر سے ہماری شادی کو چوبیس گھنٹے ہوگئے۔ سردار جی بولے آہو اینج لگدا اے جیویں کل دی گل اے، ابھی کل ہی کی تو بات تھی غالباً دسمبر کی سردیوں میں قائد انقلاب نے پیپلز پارٹی کے خلاف دھرنا دیا تھا۔ بچوں اور سیاستدانوں میں ایک بات مشترک ہوتی ہے، ان کی دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں، وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ اب تو ویسے بھی آصف زرداری نے خود کو بہترین ڈانسر بھی ثابت کردیا، انکے یہ سٹیپس مائیکل جیکسن کے تھرلر اور نرگس کے’’ نیڑے آ ظالما وے میں ٹھرگئی آں‘‘ سے زیادہ ہٹ ثابت ہوئی، نرگس تو خیر بھری جوانی میں ٹھر گئی تھیں ہمارے مرد آہن اتنے نرم نہیں پھر ڈانس سے پہلے جس طرح انہوں نے ٹھنڈا پانی پیا اس کے بعد تو انہیں ویسے ہی گرمی لگنی ہی لگنی تھی۔

آجکل ایک ریس لگی ہے کہ کون سب سے اچھا بچہ ہے، عمران خان اب تک بڑوں کا تمام کہا مانتے آئے ہیں، چودھری برادران تو ویسے بھی بڑوں کی آنکھ کا اشارہ سمجھتے ہیں، اب آصف زرداری جس تیزی سے اچھے بچے بن رہے ہیں، امید ہے کہ وہ سب کے ریکارڈ توڑ دیں گے، خاتون بچوں سے بولیں جو بچہ میرا کہنا مانے گا اسے ایک ٹافی دونگی، سب سے چھوٹا بولا اینج تے ساری ٹافیاں ابو لے لیں گے، بس دیکھتے جائیں آخر میں سب سے زیادہ ٹافیاں زرداری کی جیب سے نکلیں گی، لیکن بھائیو تے فیر بھائیو کوئی مجھے بتائے گا اس جمع تفریق کا فائدہ کیا ہے، بڑے بھیا گئے مانا چھوٹے بھیا بھی گئے پھر کیا غریبوں کی زندگی آسان ہوجائے گی؟ کیا اس تھکی ہاری مخلوق کو امن مل جائے گا، کون دے گا، امن سکون زرداری، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی دیں گے؟؟؟ جو اس سسٹم کے سب سے بڑے بینفشرینر ہیں، میاں برادران کو بدلنے سے کیا فائدہ بدلنا ہے تو یہ گٹر سے زیادہ بدبو دار نظام بدلو۔ چلتے چلتے رانا ثناء اللہ کا ذکر کردوں، لگتا ہے انہیں گھیرنے کا فیصلہ ہوگیا ہے، طاہر القادری سے لیکر پیر حمید الدین سیالوی سب ان کے پیچھے پڑے ہیں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ رانا صاحب وہ طوطے ہیں جس میں پنجاب حکومت کی جان ہے، ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن انکے دبنگ ہونے سے انکار ممکن نہیں اور دبنگ بندہ فلموں میں تو چل سکتا ہے اس ’’پیوست زدہ ‘‘نظام میں نہیں، ایک دن ایک رانا صاحب کے گھر چور آگیا رانے کی آنکھ کھل گئی، چور بھاگ نکلا، رانا صاحب اسکے پیچھے دوڑ پڑے اور بھاگتے بھاگتے چور سے یہ کہتے ہوئے آگے نکل گئے اک تے چوری اوتو رانے نال ریساں، رانا ثناء اللہ بہت تیز ہیں، صحیح بات ہے ان سے ریس لگانا ممکن نہیں وہ تو اتنا تیز دوڑتے ہیں کہ میاں شہباز شریف سے بھی آگے نگل گئے۔


Top