You are here
Home > پا کستا ن > روک سکو تو روک لو۔۔۔۔۔۔ چوہدری نثار کو انتخابات 2018ء سے قبل ایسی خوشخبری مل گئی کہ پوری (ن) لیگ سوگ میں ڈوب گئی

روک سکو تو روک لو۔۔۔۔۔۔ چوہدری نثار کو انتخابات 2018ء سے قبل ایسی خوشخبری مل گئی کہ پوری (ن) لیگ سوگ میں ڈوب گئی

راولپنڈی (ویب ڈیسک )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے کاغذات نامزدگی کے خلاف اعتراض خارج ، پی پی 10سے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے گئے ۔ بدھ کو سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف اعتراض پر ریٹرننگ آفیسر نے

محفوظ فیصلہ سنا دیا جس میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف اعتراض خارج کر دیا گیا،اور چوہدری نثار علی خان کے حلقہ پی پی 10سے کاغذات منظور کرلئے گئے۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا تھا کہ چوہدری نثار سپریم کورٹ حملہ کیس میں ملوث ہیں۔واضح رہے اس سے پہلے سپریم کورٹ نے عدم حاضری پر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عبوری حکم واپس لیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 4 رکنی خصوصی بینچ نے لاہور رجسٹری میں پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘پتہ کریں پرویز مشرف آرہے ہیں یا نہیں، عید الفطر پر اسٹاف کو چھٹیوں پر بھی جانا ہے’۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کیس کی سماعت 2 بجے رکھی ہے، اگر پرویز مشرف کو آنا ہے تو انتظار کرلیتے ہیں’۔اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق فوری اپ ڈیٹ لے کر جواب جمع کرانےکا حکم دیتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا۔تاہم تھوڑی دیر بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو پرویز مشرف کےوکیل قمر الفضل نے

عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل وطن واپس نہیں آرہے، وہ آنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ حالات اور عید کی تعطیلات کی وجہ سے نہیں آرہے’۔وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف نے استدعا کی ہے کہ عدالت پاکستان آنے کی مہلت دے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہیں، جب آپ کہیں گے تب کیس لگا دیں گے۔اس سے قبل پرویز مشرف کے وکیل نے 7 جون کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر کہا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا معاملہ ہے جس پر چیف جسٹس نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز مشرف پیش ہوجائیں انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا، ہم حکم دے دیں گے انہیں عدالت پہنچنے تک گرفتار نہ کیا جائے۔آج کی سماعت کے دوران طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر عدالت نے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عبوری حکم واپس لیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔عدالتی حکم کے بعد پرویز مشرف آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہیں لے سکیں گے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو آج یعنی 14 جون، دوپہر 2 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دی تھی۔

گزشتہ رات پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر امجد نے کہا تھا کہ سابق صدر کی وطن واپسی کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور آئندہ 24 گھنٹوں میں ان کی پاکستان واپسی کا امکان ہےتاہم 5 گھنٹے بعد ہی ڈاکٹر امجد نے یوٹرن لیتے ہوئے پرویز مشرف کی آج وطن واپسی کا اعلان واپس لے لیا۔ڈاکٹر امجد کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی واپسی کے ٹکٹ لینے میں مشکلات ہیں، جبکہ سابق صدر کا پاسپورٹ بھی بلاک ہے، اس لیے آج ان کی واپسی کا امکان بہت کم ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ عدالتوں سے نئی تاریخ لینے کی کوشش کریں گے۔یاد رہے کہ کچھ روز قبل پرویز مشرف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی الجھن کا شکار نہیں ہوئے، تاہم پاکستان جانے کے بارے میں بہت کنفیوژ ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں تمام مقدمات میں ضمانت دی جائے، 26 جولائی سے پہلے فیصلہ سنایا جائے اور گرفتار نہ کرنے کی ضمانت دی جائے۔مشرف کا کہنا تھا کہ ‘6 دیگر سیاسی مقدمات ہیں ان کا کیا ہوگا؟’ ساتھ ہی انہیں اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی جائے کہ ان کا نام ای سی ایل میں نام شامل نہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سابق صدر کے خلاف سنگین غداری کیس زیر سماعت ہے جس میں عدالت نے ان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔(ز،ط)


Top