You are here
Home > پا کستا ن > کون ہوگا کشمیر کا اگلا وزیراعظم ؟ چار بڑے نام سامنے آگئے

کون ہوگا کشمیر کا اگلا وزیراعظم ؟ چار بڑے نام سامنے آگئے

مظفر آباد( ویب ڈیسک )اقتدار کا ہما کس کے سرپر بیٹھے گا؟ کون ہوگا کشمیر کا اگلا وزیراعظم ؟ چار بڑے نام سامنے آگئے۔

موجودہ الیکشن سے پہلے جب نئے دھڑے بن اور ٹوٹ رہے تھے اس وقت تک بظاہر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود ہی ممکنہ وزیراعظم آزاد کشمیر نظر آرہے تھے تاہم سردار تنویر الیاس کی آزاد کشمیر کی سیاست میں کامیاب انٹری نے تہلکا مچا دیا ہے۔ سردار تنویر الیاس اور بیرسٹر سلطان محمود کے دھڑوں نے اپنی انتخابی جنگ علیحدہ علیحدہ لڑی ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن خواجہ فاروق اور پارٹی میں نووارد انوارالحق کا نام بھی ممکنہ وزرائے اعظم کی فہرست میں گردش کرنے لگا ہے تاہم ان چاروں میں کون خوش قسمت ثابت ہوگا تو جسے پیا چاہے وہی سہاگن ہووے ۔اس کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کشمیر شاخ کے صدر بیرسٹر سلطان محمود میدان سیاست کے پرانے شناور اور کشمیر کی سیاست کا ایک جانا پہچان نام ہیں اور انھوں نے ایل اے تین میر پور سے فتح سمیٹی اور اس وقت انہیں وزارت عظمیٰ کے لیے مضبوط ترین امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔وہ 1985 میں اپنے والد چوہدری نور حسین کی سیاسی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اسی پلیٹ فارم سے 1990 میں بھی ممبر منتخب ہوئے اور پیپلزپارٹی کے ساتھ اسمبلی میں اتحاد کیا۔

1991 کے انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود اپنی آبائی نشست سے بھی ہار گئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کو جموں و کشمیر لبریشن لیگ میں ضم کر دیا۔1996 کے انتخابات سے پہلے ہی بیرسٹر سلطان محمود اپنی جماعت لبریشن لیگ سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے اور وزیراعظم بن گئے۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب مرکز میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کی تو کشمیر میں بیرسٹر سلطان کی حکومت کو بدستور کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران ان کے جنرل مشرف کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم ہوگئے۔

2001 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب نہ ہوسکی اور وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہی اپوزیشن لیڈر بنے۔ پیپلز پارٹی سے اپنی برطرفی کے بعد2006 کے انتخابات سے پہلے بیرسٹر سلطان محمود نے اپنی جماعت جموں و کشمیر پیپلز لیگ بنائی جو صرف چار نشستیں جیت سکی۔2011 کے انتخابات سے قبل بیرسٹر سلطان نے اپنی جماعت پیپلز لیگ کو پھر پیپلز پارٹی میں ضم کردیا۔ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں واضح برتری ملی، لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت نے سلطان محمود کو نظرانداز کر دیا اور کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا۔

2015 میں بیرسٹر سلطان محمود دوسری مرتبہ پیپلز پارٹی سے اپنے راستے مختلف کرلئے اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔ 2016 کے انتخابات میں انھیں بحیثیت صدر تحریک انصاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم 2019 میں مسلم لیگ ن کے چوہدری سعید کی نااہلی کے باعث خالی ہونے والی نشست پر وہ کامیاب ہو کر قانون ساز اسمبلی میں پہنچ گئے۔

سردار تنویر الیاس انتخابی سیاست میں بالکل نووارد ہیں۔ ان کا تعلق کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے ہے تاہم کاروباری پراجیکٹ تمام ریاست سے باہر ہیں۔ تنویر الیاس سردار گروپ آف کمپنیز کے صدر ہیں۔ اسلام آباد میں ایک بڑے کاروباری مرکز دی سینٹورس اور ایک رہائشی سوسائٹی کے مالک بھی ہیں۔ پہلی مرتبہ عملی سیاست میں قدم رکھا اور ایل اے 15 باغ ون سے فتح کا جھنڈا لہرایا۔

معاشی شعبے میں تجربے کی وجہ سے انھیں کشمیر کی وزارت عظمی کے لیے ایک اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح ٹائل مینوفیکچرنگ، آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر سمیت مختلف شعبہ جات میں اس گروپ کی 13 کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ اس گروپ نے دیگر کاروبار سمیت میڈیا انڈسٹری کی طرف بھی تیزی سے پیش قدمی کی ہے۔ سردار میڈیا گروپ نے چار ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں جو گذشتہ سال 64 کروڑ روپے کی بولی کے ذریعے جیتے گئے تھے۔

ان میں نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز، انٹرٹینمنٹ، ریجنل لینگویجز اور سپورٹس شامل ہیں، جبکہ سردار میڈیا گروپ کے پاس ایف ایم ریڈیو کے چار لائسنس بھی موجود ہیں اور ایشین نیوز کے نام سے اخبار کا ملک کے پانچ بڑے شہروں سے اجراء کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔وزیراعظم عمران خان کی نگاہ میں ہیں۔پاکستان کے 2018 کےعام انتخابات میں انہیں پنجاب کی عبوری کابینہ میں نگران صوبائی وزیر کا قلمدان سونپا گیا تھا۔ عام انتخابات کے بعد بھی پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے معاون خصوصی برائے تجارت اور سرمایہ کاری ہیں اور پنجاب میں سرمایہ کاری بورڈ کی چیئرمین شپ بھی ان کے پاس ہے.

خواجہ فاروق احمد پیشے کے اعتبار سے وکیل اور کشمیر کے معروف سیاستدان ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود کے پرانے ساتھی 2016 میں بھی تحریک انصاف کے ٹکٹ سے انتخابات میں حصہ لیا تھا، لیکن ہار گئے تھے۔ تاہم اس دفعہ انھوں نے ایل اے 29 مظفر آباد سے 13 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے مسلم لیگ ن کے دو مرتبہ مسلسل جیتنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کو شکست سے دوچار کیا ہے۔

ان کے کریڈٹ پر ایک اور بڑی سیاسی فتح بھی ہے انہوں نے آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان کو انتخابات میں ہرایا تھا۔وہ پاکستان تحریک انصاف کشمیر کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں، جبکہ 1996 سے 1998 تک وزیر بجلی بھی رہے ہیں۔ 2003 میں انھیں ہائیڈل پاور منصوبے میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے احتساب بیورو نے گرفتار بھی کیا تھا۔ کئی حلقے انہیں کشمیر کا وسیم اکرم پلس بھی قرار دیتے ہیں۔

چوہدری انوارالحق کا تعلق بھمبر آزاد کشمیر سے ہے وہ پہلی مرتبہ 2006 میں بیرسٹر سلطان محمود کی جماعت پیپلز مسلم لیگ سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے 2011 میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور ڈپٹی سپیکر اور وزیر بنے۔ اب ان کی تحریک انصاف میں آمد سردار تنویر الیاس کے ذریعے ہوئی اور این اے سات بھمبر میں ن لیگ کے مضبوط امیدوار چودھری طارق فاروق کو شکست دی۔

پارٹی میں نووارد ہونے کی وجہ سے ان کی تحریک انصاف کے اندر مخالفت تو ہےلیکن حلقے میں ریکارڈ ووٹ اور ن لیگ کے امیدوار کو عبرتناک شکست دینے کی وجہ سے وزارت اعظمی کے امیدوار سمجھا جارہا ہے۔


Top