You are here
Home > پا کستا ن > سینئر صحافی کے حیران کن دلائل

سینئر صحافی کے حیران کن دلائل

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمود شام اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی یونیورسٹی۔ کوئی ادارہ کوئی سیاسی پارٹی ایسی تحقیق کررہی ہے کہ وہ توانا صحت مند نوجوان جو ملک کی معیشت کی طاقت بن سکتے ہیں۔ کسی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ وہ بوجھ کیوں بن گئے ہیں۔ علما اپنے

طور پر سرگرم ہیں۔ ترغیبی تقریر کرنے والے تربیت دہندگان بھی موجود ہیں۔ مولانا طارق جمیل کے وعظ چینلوں پر جاری ہیں۔ تبلیغی اجتماعات میں بھی پہلے سے زیادہ نوجوان شریک ہوتے ہیں۔ اعتکاف میں بھی نوجوان نسبتاً بڑی تعداد میں بیٹھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا۔ سوشل میڈیا کیا ان نوجوانوں کے ذہنوں کی پیاس بجھارہا ہے۔ یہ ہمارا اثاثہ اس طرح سڑکوں پر غیر منظم احتجاج کرنے پر کیوں مجبور ہوجاتا ہے۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے پُر امن احتجاج کیوں نہیں ہوتا۔ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے منظم انداز کیوں نہیں اختیار کیا جاتا۔قومی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی زبان بھی ایسے ہی اشتعال انگیز جملے ادا کرتی ہے۔ وقار۔ متانت۔ سنجیدگی بھی کالعدم ہوچکے ہیں۔ ٹاک شوز بھی روزانہ بیزاری پیدا کرتے ہیں۔ معاملات طے کروانے کی کوشش نہیں کرتے۔یہ جو کچھ ہوتا رہا ہے ملک میں کسی سسٹم کے نہ ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ یہ بہت خطرناک رجحان ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے ادارے پولیس کو بے بس بنایا گیا۔ یہ ذہن جو دو تین روز پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص اکثریتی صوبے پنجاب میں جس بیزاری اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں یہ آئندہ بھی یہی شقی القلبی اختیار کرسکتے ہیں۔ کل کسی اور نام سے سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ یہ تحقیق کی جائے کہ ان کے ذہنوں میں یہ بے سمتی اور منفی لہر کس نے پیدا کی ہے‘ یہ رویے ملک کیلئے اور خود ان نوجوانوں کیلئے خطرناک ہیں۔ ان سے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے ذہنوں سے بیزاری کاعنصر نکال کر انہیں وطن عزیز کے لیے کارآمد بنایا جائے۔ یہ ہر چند مشتعل ہیں بیزار ہیں۔ مگر ہمارے اپنے نوجوان ہیں۔کسی ماں نے انہیں بہت سی دعائوں سے پایا ہے۔ کسی باپ کو بڑی مرادوں سے ملے ہیں۔ کسی بہن کے لاڈلے ہیں۔ انہیں محبت سے سمجھانا ہے۔


Top