You are here
Home > پا کستا ن > بریکنگ نیوز:حکومت کا دباو کام کر گیا؟ الیکشن کمیشن نے علی حیدرگیلانی ویڈیو اسکینڈل سماعت کیلئے مقرر کر دیا

بریکنگ نیوز:حکومت کا دباو کام کر گیا؟ الیکشن کمیشن نے علی حیدرگیلانی ویڈیو اسکینڈل سماعت کیلئے مقرر کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن نے علی حیدرگیلانی ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے سماعت مقرر کردیا ہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کی شکایات پر11 مارچ کو کی سماعت کرے گا،علی حیدر ویڈیو اسکینڈل کی شکایت پرمبنی درخواست پی ٹی آئی نے دی تھی۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ الیکشن سے متعلق شکایات کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کردی ہیں، پیپلزپارٹی کے جنرل سیکرٹری نیئربخاری کی درخواست پر سماعت بھی 11مارچ کو مقرر کردی ہے، نیئر بخاری نے درخواست میں تحریک انصاف کی سینیٹ الیکشن میں کرپٹ پریکٹسزاورخواتین ممبران کو پیسے دینے کا الزام لگایا۔

اسی طرح الیکشن کمیشن میں علی حیدرگیلانی ویڈیو اسکینڈل سے متعلق درخواست پی ٹی آئی کے رہنماؤں کنول شوذب اورفرخ حبیب نے دائر کی تھی۔

الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کے جاوید عباسی کی درخواست بھی 9مارچ کی سماعت کیلئے مقرر کردی ہے، جاوید عباسی نے خیبرپختونخواہ کے ممبران سے متعلق مبینہ ویڈیو پر درخواست دائر کررکھی ہے۔ واضح رہے سینیٹ الیکشن میں پیپلزپارٹی کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی اور حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو 5 ووٹوں سے شکست دے دی ہے، جس پر تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ ہمارے سینیٹرز کو پیسے دے کر خریداگیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کل قوم سے خطاب میں بھی الیکشن کمیشن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الیکشن کمیشن کو باربار کہا کہ ریٹ لگ گئے بولیاں لگ گئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے جب الیکشن کمیشن کو موقع دیا تو پھر کیا وجہ تھی الیکشن کمیشن 1500بیلٹ پیپرز پر بارکوڈ نہیں لگا سکتا تھا؟ آپ نے پورا موقع دیا،الیکشن کمیشن نے ووٹ چوری کرنے والوں کو بچا لیا۔ وزیراعظم کے بیان پر الیکشن کمیشن نے آج اپنا ردعمل دیا، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت الیکشن کمیشن میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس کے بعد جاری کئے گئے اعلامیے کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے، اس کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اس کو کیا اجازت دیتا ہے اور وہی اس کا’معیا ر‘ ہے۔ سینیٹ الیکشن آئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ وہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے،الیکشن رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی ترمیم کر سکتے ہیں۔ اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات /فیصلوں پر اعتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کریں اور ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں۔ ہم کسی بھی دباؤ میں نہ آئے ہیں اور نہ ہی انشااللہ آئیں گے۔الیکشن کمیشن کو کسی بھی وفود نے ملنا چاہا الیکشن کمیشن نے ان کا مؤقف سنا ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔

الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف آئین وقانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستانی عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے۔یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹرول میں ایک ہی عملہ کی موجودگی میں جوہار گئے وہ نامنظور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں جبکہ باقی تمام صوبوں کے رزلٹ قبول، جس رزلٹ پر تبصرہ اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔

یہی ہے جمہوریت اور آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا ء تھی۔ جن خیالات کا اظہار کیاگیا ہے وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا جبکہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے۔ اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی۔

ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آ کر بات کریں۔ آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں۔لہٰذا ہمیں کام کرنے دیں۔


Top