You are here
Home > پا کستا ن > گتھی سلجھنے لگی ۔۔۔!!!اپوزیشن کو سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع کس نے دیا ؟ وزیراعظم عمران خان نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

گتھی سلجھنے لگی ۔۔۔!!!اپوزیشن کو سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع کس نے دیا ؟ وزیراعظم عمران خان نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

 اسلام اباد (ویب  ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ا لیکشن کمیشن نے اپوز یشن کو ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا۔ تفصیلات کے مطابق قوم سے خطاب کے دوران عمران خان نے الیکشن کمیشن پر الزام عائدکر دیا۔ عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کی شکست کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا، جس کی وجہ سے حفیظ شیخ الیکشن ہار گئے۔

یاد رہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کررہے ہیں۔اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم سینیٹ الیکشن کو سمجھ جائے تو ملک کے سارے مسائل سمجھ آجائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ پر ہوتا توتحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملتی جتنی ملنی تھیں، اپوزیشن نے اسلام آباد سے سینیٹ کی سیٹ پر پیسہ لگایا۔

عمران خان نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صاف اور شفاف الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنی رائے کے ذریعے الیکشن کمیشن کو موقع دیا کہ سیکرٹ بیلٹ کرالیں لیکن ووٹ کو قابل شناخت رکھیں، الیکشن کمیشن 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈنگ نہیں کرسکتا تھا؟ الیکشن کمیشن نے تو سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع دیا، سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن میں اوپن بیلٹ کی مخالفت کی۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ اس نے پیسے باٹنے کی ویڈیو کی تحقیقات نہیں کیں؟ کیا آپ کو نہیں پتہ کہ یہ آپ کی ذمہ داری تھی تحقیق کرنے کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پتا چلنا چاہیے کہ ہمارے پندرہ ، سولہ ارکان کون سے ہیں جو بکے ہیں لیکن سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ان کو بچالیا گیا اب ہم بتائیں گے عدم اعتماد کب ہوگا اور کہاں ہوگا، بلاول بھٹو زرداری انہوں نے کہا کہ مجھےاندازہ ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتاہے، یہ ابھی سےنہیں 30، 40 سال سے سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے، ارکان پارلیمنٹ کو خریدا جاتا ہے، سینیٹرپیسہ خرچ کرکے سینیٹر بن رہاہے، تب سے میں نے مہم شروع کی کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2018 کے سینیٹ الیکشن میں ہمارے 20 ارکان نے ضمیر بیچا تو انہیں پارٹی سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیےکہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے لیکن اس بار سب سیکریٹ بیلٹ کے حق میں ہوگئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب ان جماعتوں نے اوپن بیلٹ کی بات نہیں مانی تو انہیں سپریم کورٹ سے رائے لینی پڑی، سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ اس میں پیسہ چلتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب سےہماری حکومت ہے پرانی پارٹی میں موجود کرپٹ لوگوں کو خوف آگیا ہے۔ اعتماد کا ووٹ: صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو طلب کر لیا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان سب کی کوشش ہے کہ مجھ پر دباو ڈالا جائے تاکہ میں مشرف کی طرح ہاتھ اٹھادوں اور انہیں این آر و دے دوں، میں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ یہ سب اکٹھے ہوجائیں گے، انہوں نے اب کیا کیا ؟ انہوں نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

عمران خان نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کا بل کیا تھا، ان کے دور میں ہمیں گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، فیٹف کی سفارشات پر عمل نہ کریں تو ملک بلیک لسٹ ہوجائے گا، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ پہلے نیب کو بند کریں پھر فیٹف بل پر سپورٹ کریں گے۔ ’اپوزیشن کی کوشش تھی کہ مجھ پر عدم اعتماد کی تلوار لٹک جائے اور میں میں این آر او دوں‘ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک فیٹف کی بلیک لسٹ میں گیا تو پابندیاں لگیں گی، جو پابندیاں لگیں گی اس سے ہمارا روپیہ گرنا شروع ہوگا، غربت پھیل جائے گی، مہنگائی کا طوفا آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مجھے بلیک میل کررہی تھی کہ میں انہیں این آر او دے دوں، سپریم کورٹ میں سب نے اکٹھے ہو کر کہا کہ ہمیں سینیٹ الیکشن میں خفیہ بیلٹ چاہیے۔


Top