You are here
Home > پا کستا ن > میں آپ کو اپنا استاد مانتا ہوں لیکن ۔۔۔!!!جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جسٹس منظورملک کو مکالمے ب میں ایساکیوں کہا ؟ جانئے

میں آپ کو اپنا استاد مانتا ہوں لیکن ۔۔۔!!!جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جسٹس منظورملک کو مکالمے ب میں ایساکیوں کہا ؟ جانئے

اسلام آباد(ویب  ڈیسک)سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سماعت کی لائیو کوریج کے حوالے سے درخواست پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منظور ملک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ چند وکلا کی وجہ سے لوگوں میں وکلا گردی کا لفظ مشہور ہوگیا،جو لوگ عدالت نہیں آسکتے ان کیلئے لائیو نشریات موثر ثابت ہوگی، میرے دلائل عدالتی کارروائی براہ راست نشر ہونے کے فوائد سے متعلق ہیں،میں فوجداری مقدمات میں آپ کو اپنا استاد مانتا ہوں، آپ میرے بڑے ہیں، جسٹس منظور ملک نے کہاکہ کل یہ اعتراض آسکتا ہے آپ نے فلاں کیس پررائے دی،اس لیے مقدمہ نہ سنیں،آپ نے یہاں بھی بیٹھنا ہے جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہیں، آپکی باتیں فیصلے میں آگئیں توکل وکیل آپ کے سامنے یہ بطوردلیل پیش کریں گے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی لائیو کوریج کے حوالے سے سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ میں اس سوال کا جواب نہیں جانتا،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آپ کامطلب ہے ٹی وی ایجاد سے اب تک جوانصاف ہوا وہ دکھائی نہیں دیا؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپکی دلیل ہے سائنس وٹیکنالوجی کی جدت سے نظام عدل میں شفافیت آئیگی،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ کھلی عدالت کا مطلب تمام پبلک کا موجود ہونا نہیں، ذوالفقار علی بھٹو کیس کھلی عدالت میں سنا گیا تھا۔

جسٹس عیسیٰ نے کہاکہ بھٹوکیس میں اختلافی نوٹ والے جج نے کہااکثریتی فیصلہ فوجی حکومت کے دباؤ میں تھا،پاکستان اورسپریم کورٹ کی تاریخ کاسب سے متنازع فیصلہ ذوالفقاربھٹو کیس کا تھا۔جسٹس منظو راحمد ملک نے کہاکہ جو بات آپ یہاں کررہے ہیں وہ ایک جج کی آبزرویشن بن جائیگی، آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ صرف ایک وکیل نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاکہ چند وکلا کی وجہ سے لوگوں میں وکلا گردی کا لفظ مشہور ہوگیا،جو لوگ عدالت نہیں آسکتے ان کیلئے لائیو نشریات موثر ثابت ہوگی، میرے دلائل عدالتی کارروائی براہ راست نشر ہونے کے فوائد سے متعلق ہیں،میں فوجداری مقدمات میں آپ کو اپنا استاد مانتا ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منظور ملک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ میرے بڑے ہیں، جسٹس منظور ملک نے کہاکہ کل یہ اعتراض آسکتا ہے آپ نے فلاں کیس پررائے دی،اس لیے مقدمہ نہ سنیں،آپ نے یہاں بھی بیٹھنا ہے جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہیں،

جسٹس منظور ملک نے کہاکہ آپکی باتیں فیصلے میں آگئیں توکل وکیل آپ کے سامنے یہ بطوردلیل پیش کریں گے،جسٹس فائز عیسیٰ نے کہاکہ میں عدالت کے سامنے ایک پٹیشنر جج کے طور پر موجود ہوں،عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات کا حق مجھے نہیں عوام کو دیاجائےگا،

جسٹس فائزعیسیٰ نے سماعت کے دوران عالمی آزادی صحافت کے اعدادوشمار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت 180 ممالک میں آزادی صحافت کے معاملے پر پاکستان کا نمبر147 ہے،آزادی صحافت پر پاکستان کے اعدادوشمار دیکھ کر میرا سرشرم سے جھک گیا، قائداعظم اور لیاقت علی خان نے آزادی صحافت کے چارٹر پر دستخط کیے تھے۔

جسٹس فائزعیسیٰ نے ذاتی حیثیت سے عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات پردلائل دیئے،عدالتی کارروائی براہ راست نشرکرنے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا،صدارتی ریفرنس نظرثانی درخواست پر بھی وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیاگیا۔


Top