You are here
Home > پا کستا ن > ’’ افسوس پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ اپنے معاہدے سے پھر گئیں ۔۔۔‘‘ آج چیف جسٹس آف پاکستان کے سماعت کے دوران انتہائی اہم ریمارکس، دونوں جماعتوں نے کونسا معاہدہ کیا تھا؟

’’ افسوس پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ اپنے معاہدے سے پھر گئیں ۔۔۔‘‘ آج چیف جسٹس آف پاکستان کے سماعت کے دوران انتہائی اہم ریمارکس، دونوں جماعتوں نے کونسا معاہدہ کیا تھا؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  سپریم کورٹ آف پاکستان میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔

 سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی، اس دوران اٹارنی جنرل و صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل و دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر ہی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سینیٹ ووٹرز کے لیے ہدایت نامہ تیار کیا ہے؟ گذشتہ انتخاب کے لیے ہدایت نامہ تیار کیا گیا تھا تاہم ہمیں ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینیٹ انتخابات پر نہیں ہوتا، آرٹیکل 59 میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں۔

دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خفیہ رائے شماری میں متناسب نمائندگی نہ ہوئی تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں، جس کو پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے کھل کر دے، سزا صرف ووٹوں کی خرید و فروخت پر ہو سکتی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیئے کہ ماضی میں غیر قانونی طریقے سے مینڈیٹ چوری ہوا، آصف زرداری نے اب بھی کہا کہ تمام 10 نشستیں جیتیں گے، ان کا بیان سیاسی لیکن مینڈیٹ کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون ہمیشہ معاشرے کے تجربات سے بنتا ہے، کوئی برا واقعہ ہو تو ہے اس کے حوالے سے قانون سازی ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ احمد اویس نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو سیاسی جماعتیں لے کر آتی ہیں، جہنیں مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ احمد اویس نے کہا کہ شفافیت کے لیے ہر چیز خفیہ رکھنا لازمی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کا کہ آرٹیکل 59 میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں، آئین کا ارٹیکل 59 سینٹ کے حوالے سے ہے۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اپنے سر پر بوجھ نہیں اٹھا سکتے، ہارس ٹریڈنگ کا سب نے سنا ہے کسی کے پاس شواہد نہیں ہیں، اخباری خبروں اور ویڈیوز تک ہی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔اسی دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا کبھی سینیٹ کا الیکشن چیلنج ہوا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت کو سیاسی سوالات سے دور رہنا چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئین بذات خود بھی ایک سیاسی دستاویز ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی تشریح کرتے وقت عدالت سیاسی کام ہی کر رہی ہوتی ہے۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے دلائل پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ووٹ کی سیکریسی صرف بیلٹ بکس تک ہوتی ہے، اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو ٹریبونل یا الیکشن کمیشن کیسے دیکھ سکتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شکایت کی صورت میں کیا الیکشن کمیشن ووٹ کی شناخت کرسکتا ہے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ووٹ کاسٹ کرتے تو دیکھا جاسکتا ہے لیکن کس کو ووٹ دیا کوئی نہیں دیکھ سکتا، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ووٹ کی شناخت نہیں کی جاسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ افسوس ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اپنے ہی معاہدے سے پھر گئے، دونوں جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں خفیہ طریقے کار کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا، میثاق جمہوریت کی دستاویز اب بھی موجود ہے، لیکن اس پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اب اس پر عمل نہیں کررہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مخصوص نشستوں پر ووٹنگ نہیں ہوتی پھر بھی اسے الیکشن کہا جاتا ہے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ متناسب نمائندگی سینیٹ میں صوبوں کی ہوتی ہے کسی جماعت کی نہیں، اس پر چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ خفیہ رائے شماری کا اطلاق مخصوص نشستوں پر کیوں نہیں ہوتا؟ ان کی بات کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آرٹیکل 226 کا اطلاق وہاں ہوتا ہے جہاں ووٹنگ ہو، آرٹیکل 226 کی ایسی تشریح نہیں کی جاسکتی کہ آئین میں ترمیم کا تاثر ملے۔

بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے اپنے دلائل دیے اور کہا کہ قرآن پاک میں بھی کرپشن سے منع کیا گیا ہے، دنیا بھر کے انتحابی عمل میں کرپشن ہوتی تھی، دنیا نے انتحابی عمل سے کرپشن روکنے کے لیے اقدامات کیے۔ جس کے بعد کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔


Top