You are here
Home > پا کستا ن > پی ٹی آئی کے بعد (ن)لیگ کو بھی دھچکا! باغی گروپ نے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کر لیا، کیا یقین دہانی کروا دی؟

پی ٹی آئی کے بعد (ن)لیگ کو بھی دھچکا! باغی گروپ نے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کر لیا، کیا یقین دہانی کروا دی؟

لاہور (نیوز ڈیسک)سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے باغی گروپ سامنے آ گئے۔دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے اراکین کو رام کرنا درد سر بن گیا۔

سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے 8 اراکین اسمبلی نے ہم خیال گروپ تشکیل دے کر مسلم ن کی اعلیٰ قیادت کو پیغام بھجوایا ہے جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے بھی ظاہری اور درپردہ ان کی بات چیت ہو چکی ہے تاہم عمران خان کے سینیٹ الیکشن میں فلور کراسنگ کے موقف کے باعث مسلم لیگ ن کے اراکین نے پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ان کا موقف ہے کہ پارٹی قیادت میں انہیں عزت اور احترام نہیں دیا جاتا نہ ان کی بات سنی جاتی ہے اور نہ اس کے موقف کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے 7 سے 8 اراکین اسمبلی نے اپنا علیحدہ گروپ تشکیل دے کر قیادت کو سخت پیغامات بھجوانا شروع کر دئیے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ ان کے حلقے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ترقیاتی فنڈز میں بہتر حصہ نہیں دیا جا رہا اور ان کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

اگر سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو وہ الیکشن پراسس میں شامل نہیں ہوں گے۔وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے رکن اسمبلی خواجہ دادو گروپ کو منانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔دوسری جانب سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے اپنی حکمت عملی تشکیل دے دی ہے اور یہ حکمت عملی اوپن بیلٹ اور سیکرٹ بیلٹ ، دونوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ۔ اگر اوپن بیلٹ ہوتا ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنی جماعتوں کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیں گے لیکن اگر سیکرٹ ہوا تو مسلم لیگ ن کے 14ممبران صوبائی اسمبلی اپنی جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے ۔


Top