You are here
Home > پا کستا ن > سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کو سندھ سے بڑے نقصان کا خدشہ! لیاقت جتوئی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ، حکومت کو پیشگی آگاہ کر دیا

سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کو سندھ سے بڑے نقصان کا خدشہ! لیاقت جتوئی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ، حکومت کو پیشگی آگاہ کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں سینیٹ انتخابات کے لیے ایک طرف جہاں حکومتی جماعت تمام انراض اراکین کو منانے کی کوششیں کر رہی ہے وہیں سندھ سے پی ٹی آئی سندھ کے ناراض سینئر رہنما لیاقت جتوئی نے سینیٹ انتخابات میں حکومتی جماعت کو بڑا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔

 نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے لیاقت جتوئی نے کہا کہ میں سینیٹ کے ٹکٹ کا اُمیدوار نہیں تھا ، میں نے سینیٹ انتخابات میں ٹکٹ لینے کے لیے کسی سے رابطہ نہیں کیا نہ ہی میرا ایسا کوئی ارادہ تھا۔

میں وزیراعلیٰ رہا ہوں ، وفاقی وزیر رہا ہوں، صوبائی وزیر رہا ہوں، اللہ نے مجھے بہت نوازا ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اندرون سندھ کے جو ہمارے ساتھی ہیں ان کو کیوں نظر انداز کیا گیا ؟ ان لوگوں نے محنت کی ، کام کیا ، جلسے کروائے ، پانچ پانچ جلسے تو میں نے خود کروائے ، دو لاکھ 96 ہزار ووٹ دادو سے پی ٹی آئی کو ڈالے گئے، سارے سندھ میں ہمارے دوست ہمارے ساتھ ہیں ۔

لیاقت جتوئی نے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ پیراشوٹرز کو کیسے ٹکٹ دے دیا گیا ، مجھے واوڈا صاحب سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے ، لیکن وہ پہلے ہی ایم این اے ہیں اور وزیر بھی ہیں، پھر وہ کیوں سینیٹ کی نشست کے لیے اتنی کوشش کر رہے ہیں ۔

 انہوں نے کہا کہ میں یہی کہوں گا کہ اندرون سندھ کو مکمل طور پر ںظر انداز کیا جا رہا ہے ، ہمارے تحفظات ہیں ، ہم نے محنت کی ، ووٹ ڈلوائے لیکن اگر اسی طرح سے اگر فیصلے ہوں گے تو سندھ میں پی ٹی آئی پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی لیکن ہمارے لیے مشکلات ہوں گی کیونکہ پی ٹی آئی کے ساتھ چلنا ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا۔

لیاقت جتوئی نے سینیٹ انتخابات سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا حق بنتا ہے کہ جو فیصلہ صحیح نہ لگے اُس کی نشاندہی کریں اور باقاعدہ لائحہ عمل بنا کر اس کی مزاحمت کریں ۔ کیونکہ سندھ میں ہمارے اچھے دوستوں کو بھی ٹکٹ ملنا چاہئیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو پارٹی میں آئے چھ ماہ ہوئے تو اسے ٹکٹ مل جائے تو لوگ یہی کہتے ہیں کہ یہ اے ٹی ایم مشین ہے۔

 یہ ٹکٹ پیسوں پر بکے ہیں۔ اس پر جے آئی ٹی وغیرہ بن جائے تو پتہ چل جائے گا کہ ٹکٹ خریدنے کے لیے دئے جانے والے پیسے کس کو گئے ، جو بینفشریز ہیں وہ سمجھ گئے ہیں، میں نے اشارہ کر دیا ہے ، میں کسی کا نام نہیں لوں گا۔


Top