You are here
Home > پا کستا ن > مولانا کا تنہائی کا سفر شروع! پیپلز پارٹی کے بعد (ن)لیگ کا بھی فضل الرحمان پر اظہارِ عدم اعتماد، پی ڈی ایم سربراہ کہیں کے نہ رہے

مولانا کا تنہائی کا سفر شروع! پیپلز پارٹی کے بعد (ن)لیگ کا بھی فضل الرحمان پر اظہارِ عدم اعتماد، پی ڈی ایم سربراہ کہیں کے نہ رہے

کوئٹہ( نیوز ڈیسک) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعد ن لیگ نے بھی مولانا فضل الرحمن پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے، بلاول زرداری کے بعد مریم صفدر نے بھی سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرکے پی ڈی ایم کے فیصلوں کی نفی کردی ،

آر یا پار کا اعلان کرنے والی مریم صفدر نے پی ڈی ایم کے فیصلوں پر مفادات کی آری چلا کر آر پار کردیا، حکومت کو اسمبلی سے نکالنے والے خود دھاندلی زدہ اسمبلی میں جانے کے لیےبے تاب ہیں، اسپیکر کے منہ پراستعفے مارنے والے اب خود کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، مولانا فضل الرحمن کی جیب میں بھی کچھ ’’اپنوں ‘‘ کے استعفے تھے شاید مریم اور بلاول کے ہاتھوں مولاناکی جیب کٹ چکی ہے۔ت

تفصیلات کے مطابق جامعہ مطلع العلوم کوئٹہ میں ملک بھر سے آنے والے جے یو آئی پاکستان کے سینئر اراکین کو دئیے گئے عشائیہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کا سینٹ الیکشن میں حصہ لینے اور پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانا پی ڈی ایم کے فیصلوں اور مولانا فضل الرحمن پر عدم اعتماد ہے، انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم قومی اسمبلی سے حکومت کو نکالنے کے بجائے خود دھاندلی زدہ اسمبلی میںجارہی ہے جس سے ان کے استعفوں کا حشر بھی سامنے نظر آرہا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ یہ نئی پیش رفت پی ڈی ایم کے 20ستمبر 2020کے طے شدہ فیصلوں اور میثاق پاکستان کی نفی ہے.

انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن اور سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ویٹو پاور پہلے بلاول زرداری نے اور اب مریم صفدر نے استعمال کیا، پی ڈی ایم فروٹ چاٹ ، چنا چاٹ کے بعد تھوک چاٹ پر آگئی ہے ، حافظ حسین احمد نے کہا کہ جو انہوں نے شروع میں ہی یہ کہا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں اور یہ مولانا فضل الرحمن کے ذریعے جے یو آئی کو بند گلی میں دھکیل رہے ہیں میری ایک ایک بات صحیح ثابت ہورہی ہے.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے کوئٹہ کے جلسے عام میں پاک فوج کو جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے خلاف بغاوت پر اُکسانے کے بیانیے کی مخالفت جے یو آئی کو بچانے کے لیے ایک کوشش تھی ،انہوں نے کہا کہ مریم صفدر کا یہ کہنا تھا کہ 13دسمبر کو لاہور میں آر یا پار ہوگا سچ ثابت ہوا ہے کیوں کہ پی ڈی ایم کے فیصلوں پر مفادات کی آری چلا کر آر پار کردیا گیا ہے.

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے جیب میں بھی کچھ استعفے تھے اور تو نہیں ان کے اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے استعفے تھے لیکن لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی بھی جیب کٹ گئی ہے، انہوں نے کہا کہ اسپیکر سے اس لیے اپوزیشن ملنے سے کترا رہی ہے کیوں کہ جب ان سے ملاقات ہوگی تو مریم صفدر نے جو کہا تھا کہ ان کے منہ پر استعفے دے ماریں گے کیوں کہ اب استعفے نہیں رہے البتہ اسپیکر کا منہ ابھی باقی ہے اس لیے وہ اسپیکر کا منہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے تاکہ استعفے دینے کا سوال ہی نہ ہوسکے۔

اس موقع پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر ترین رہنما مولانا محمد خان شیرانی، مولانا گل نصیب خان، مولانا شجاع الملک، پیر عالم زیب شاہ، عبدالوحید، حافظ فضل محبوب اور دیگررہنما بڑی تعداد میں موجود تھے،


Top