Categories
پا کستا ن

’’ یار کدھر ہو؟ جلدی عدالت پہنچو۔۔۔‘‘رانا ثناء اللہ کی عدالت میں پیشی کسے فون کر کے فوری عدالت بلا لیا؟ حیرت انگیز صورتحال پیدا

لاہور (نیوز ڈیسک) انسداد منشیات کی عدالت میں ن لیگی رہنماء کے کیس کی سماعت 2 جنوری کو ہو گی۔ آج رانا ثناء اللہ عدالت میں تاخیری حربے استعمال کرتے رہے تاہم بعد میں خود ہی پکڑے گئے۔

سماعت شروع ہوتےہی پہلےتو رانا ثناء اللہ کے ایک جونیئر وکیل نے اور پھر رانا ثناء اللہ نے خود یہ بہانہ تراشا کہ ہمارے سینیئر وکیل اعظم نذیر تارڑ جو پاکستان بار کونسل کے رکن بھی ہیں وہ شہر سے باہر ہیں۔

عدالت نے راناثناءاللہ اور انکے وکلاء کوپیغام دیا کہ 2 جنوری کو راناثناءاللہ کی یہ درخواست خارج ہو یا منظور، دونوں صورتوں میں راناثناءاللہ پر فردجرم عائد ہونے کی کاروائی 2 جنوری کو ہی ہو گی۔

‏ رانا ثناء اللہ اور انکے جونیئر وکلاء نے اپنے سینئر وکیل کی لاہور میں عدم موجودگی کے بہانے عدالتی کاروائی کو ٹالنے کی کوشش کی تو فاضل جج نے رانا ثناء اللہ سے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عدالتی وقت شام 4 بجے تک ہے، نہ میں کہیں جاوں گا اور نہ ہی آپ کو کہی جانے کی اجازت ہے۔

آپ کا وکیل جہاں بھی ہے اسے بلوائیں بصورت دیگر میں آپ کی اس درخواست کو خارج کر کے آج ہی فردجرم عائد کرنے کی کاروائی کروں گا۔

معزز جج کے ریمارکس سنتے ہی رانا ثناء اللہ نے اپنے وکیل اعظم نذیر تارڑ سے فون پر رابطہ کرنے کی اجازت طلب کی،رانا ثناء اللہ نے عدالت باہر جا کر اپنے وکیل ‏سے رابطہ کیا اور اسے عدالت میں پیش ہونے کا کہا جس پر وہی وکیل جو چند لمحے پہلے تک لاہور میں تھا ہی نہیں، آدھے گھنٹے میں عدالت میں پیش ہو گئے۔