اگر پی ڈی ایم رہنماؤں کو گرفتار نہیں کرنا تو پھر ۔۔۔ کابینہ اجلاس میں ارکان اسمبلی وزیر اعظم سے کس بات پر برہم ہو گئے ؟ جانیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزراء نے اپوزیشن رہنماوں کو گرفتار نہ کی صورت میں انہیں فری ہینڈ دینے کی تجویز دے دی۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسوں پر بھی مشاورت کی گئی۔
میڈیا ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں بعض وفاقی وزراء کی طرف سے گزشتہ روز ہونے والے پی ڈی ایم کے ملتان جلسے کے حوالے سے پنجاب حکومت کی کوتاہیوں پر بات کی گئی اور موقف اختیار کیا کہ جلسے میں رکاوٹیں ڈالنے اور اپوزیشن رہنماوں کی پکڑ دھکڑ کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن اگر گرفتاریاں ہی کرنی تھیں تو پھر اس میں کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی دکھانے کی ضرورت نہیں تھی آئندہ سے اگر انہیں گرفتار نہیں کرنا تو پھر بہتر ہے اپوزیشن کو فری ہینڈ دے دیا جائے۔
دوسری طرف لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے ن لیگ کی گریٹر اقبال پارک میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسہ کی درخواست مسترد کر دی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے 5 رکنی وفد نے جلسے کی اجازت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی ، جس میں ان کی طرف سے لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں جلسے کی اجازت طلب کی گئی تاہم ڈپٹی کمشنر لاہور نے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لاہور نے موقف اختیار کیا کہ جلسے کی اجازت دینے، نہ دینے کا حتمی فیصلہ پنجاب حکومت کرے گی۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے ملتان کے جلسہ کے بعد حکومت کو مزید ٹف ٹائم دینے کے لیے لاہور میں اعلان کردہ جلسہ کے لیے کام شروع کردیا ، پی ڈی ایم کا اہم سربراہی اجلاس 8 دسمبر کو اسلام آباد میں بلالیا ، مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ہماری نظریں اب لاہور کے جلسے پر ہوں گی ، حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔