پنجاب کے اہم شہر میں ہر ہفتے ”پبلک ٹائم” مختص کرنے کا فیصلہ۔۔۔ اس دوران کیا ہو گا ؟ حکومت کا زبردست اعلان

لاہور(ویب ڈیسک)وزیراعظم کی ہدایت پر حلقے کی سطح پر عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش،معاون خصوصی عثمان ڈار کا سیالکوٹ میں ہر ہفتے “پبلک ٹائم” مختص کرنے کا اعلان،22 محکموں کے افسران اور حکام براہ راست عوامی شکایات کو موقع پر حل کریں گے، شہر کی صفائی سے متعلق شکایات کے حل کیلئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ

کے حکام ساتھ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی عثما ن ڈار نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں ہر ہفتے “پبلک ٹائم” مختص کرنے کا اعلان،22 محکموں کے افسران اور حکام براہ راست عوامی شکایات کو موقع پر حل کریں گے فیصلہ عوامی مسائل کی براہ راست سنوائی اور فوری حل کیلئے کیا ہے ہفتے کے روز صبح 11 سے دوپہر 1 بجے تک عوامی مسائل سنے جائیں گے پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کیلئے ڈی پی او خود موقع پر موجود ہوں گے شہریوں کی انتظامیہ سے متعلق شکایات کے حل کیلئے ڈپٹی کمشنر بھی موجود ہوں گے گلی محلوں اور یونین کونسل تک کے مسائل اپنی نگرانی میں حل کروائیں گے انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور کارپوریشن سے متعلق مسائل کے حل کیلئے متعلقہ محکموں کے ذمہ داران موجود ہوں گے 22 وفاقی اور صوبائی محکموں کے افسران اور حکام عوام کے سامنے ہوں گے میں اور میری پوری ٹیم ہر ہفتے عوام کے منتظر رہیں گے۔دوسری جانب ایک خبر کےمطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کے باعث اگر ملک میں لاک ڈاؤن کرنا پڑا تو اس کی ذمہ دار اپوزیشن ہوگی۔اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا کی دوسری لہر پھیل رہی ہے جو انتہائی تشویشناک ہے، اکثر ممالک میں مکمل لاک ڈاؤن ہے گزشتہ 15 روز میں وینٹی لیٹر پر جانے والے کورونا مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، پشاور اور ملتان میں 200، کراچی 148 فیصد، لاہور 114 فیصد اور اسلام آباد میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں لاک ڈاؤن کی طرح کے اقدامات نہیں اٹھانا چاہتا کیونکہ اس سے ایسے وقت ہماری معیشت پر برے اثرات پڑیں گے جب ہم معاشی طور پر بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ بدقسمتی سے اپوزیشن کا مقصد صرف این آر او کا حصول ہے چاہے اس کے لئے عوام کی زندگیوں اور ملک کی معیشت کو کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ این آراو کے حصول کے لئے اپوزیشن لوگوں کی زندگی اور ذریعہ معاش خطرے میں ڈال رہی ہے، میں واضح کرتاہوں کہ اپوزیشن 10 لاکھ جلسے بھی کرلے انہیں آر او نہیں ملے گا۔ کورونا کیسز اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو مکمل لاک ڈاؤن لگانا پڑے گا، ملک میں مکمل لاک ڈاؤن اور اس کے نتائج کی ذمہ دار پی ڈی ایم کی قیادت ہوگی۔