You are here
Home > پا کستا ن > (ن)لیگ میں ہلچل! پنجاب کی بڑی سیاسی شخصیت نے پارٹی کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا، نواز شریف کا بیانیہ اپنی موت مرنے لگا

(ن)لیگ میں ہلچل! پنجاب کی بڑی سیاسی شخصیت نے پارٹی کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا، نواز شریف کا بیانیہ اپنی موت مرنے لگا

اوکاڑہ(نیوز ڈیسک) سابق پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے سردار منصب ڈوگر نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔سابق ایم این اے سردار منصب ڈوگر نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے ملک دشمن بیانیے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔

مسلم لیگ ن کے ساتھ اپنی 25سالہ رفاقت کو آج قربان کر رہا ہوں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج اس ملک کی حفاظت کی ضامن ہے، ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔سردار منصب ڈوگر کا کہنا تھا کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے بیان سے دلی دکھ ہوا۔ انہوں نے پتا نہیں کس کی خوشنودی کے لئے پاک فوج کی فتح کو بدلنے کی کوشش کی ہے آپ میاں نواز شریف کی خوشامد کر کے سپیکر بن گئے حالانکہ آپ اس کے اہل نہیں تھے۔دوسری جانب لیگی رہنما عبدالقادر بلوچ نے مسلم لیگ ن بلوچستان کی صدارت سے مستعفی ہونے کافیصلہ کر لیاہے۔پی ڈی ایم کے کوئٹہ کے جلسے میں نواب ثنا اللہ زہری کو مدعو نہ کئے جانے پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے جس کے سبب مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر عبدالقادر بلوچ نے پارٹی چھوڈنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے کیونکہ انکی خواہش ہے کہ ثنا اللہ زہری کو پارٹی میں اعلی مقام دیا جائے جبکہ نجی ٹی وی چینل جی این این کا کہنا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ذرائع کے مطابق پارٹی کی طرف سے وزارت اور گورنر کے عہدوں پر تعینات رہنے والے عبدالقادر بلوچ ثنا اللہ زہری کو پارٹی میں دوبارہ اعلی مقام دلانے کیلئے بضد ہیں اور انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو خود بھی پارٹی اور پی ڈی ایم کو خیرآباد کہہ دینگے، ذرائع کے مطابق مسلم لیگ کی قیادت نے کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ میں آنے سے انکار کردیا ہے اور ان پر واضح کردیا ہے کہ پارٹی ان کا ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی اگر وہ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں تو وہ بڑی خوشی سے چھوڑ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سابق وزیراعلی بلوچستان ثنا اللہ زہری جلسے میں شرکت کیلئے پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کے استقبال کیلئے

ائیرپورٹ پہنچ گئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ انھیں نہ صرف جلسہ میں بلایا جائے بلکہ اسٹیج پر بھی بٹھایا جائے اور عبدالقادر بلوچ بھی ثنااللہ زہری کی حمایت میں پیش پیش تھے جس پر تنازع کھڑا ہوا، فرمائشوں کے باوجود پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی نے ثنااللہ زہری کو جلسہ میں مدعو کرنے سے انکار کردیا تھا، ذرائع کے مطابق اس فیصلہ پر عبدالقادر بلوچ سیخ پا تھے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ توھین آمیز رویہ ہے، ذرائع کے مطابق لیگی قیادت نے یہ موقف اختیار کیا کہ ثنا اللہ زہری اڈھائی سال سے ملک میں موجود نہیں تھے اور وہ پی ڈی ایم کے جلسے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ذرائع نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ ثنا اللہ زہری کو نہ بلانے کا فیصلہ مرکزی قیادت اور پارٹی نے مشترکہ طور پر کیا تھا اور ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ثنا اللہ زہری تحریک کے ساتھ ہی نہیں تو انھیں پی ڈی ایم کے جلسہ میں کیوں بلایا جائے، ذرائع کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ ثنا اللہ زہری نے اس وقت کہ وزیراعظم نواز شریف کہ منع کرنے کے باوجود وزارت اعلی سے استعفی دے دیا تھا اور اگر عبدالقادر بلوچ ان کی واپسی کیلئے بضد ہیں اور اسے اپنے، پارٹی میں رہنے سے مشروط کررہے ہیں تو انھیں پارٹی سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کردینا چائیے۔دریں اپنا عبدالقادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے پارٹی قیادت کے ساتھ اختلافات چل رہے ہیں، قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ رویہ ثنا اللہ زہری کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے کیونکہ وہ پارٹی کیلئے خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور وہ اس سے بہتر سلوک کے مستحق ہیں، ذرائع نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ اختر مینگل، نواب ثنا اللہ زہری کو جلسہ میں مدعو کرنے کے خلاف تھے اور انھوں نے پی ڈی ایم قیادت پر واضح کردیا تھا کہ انھیں نہ بلایا جائے کیونکہ ان کا اس تحریک میں کوئی کردار نہیں ہے۔


Top