You are here
Home > پا کستا ن > آصف زرداری نے حامد میر کو نوکری سے نکوایا تو میر صاحب بینظیر بھٹو کے پاس پہنچ گئے ، پھر کیا واقعہ پیش آیا ؟ جان کر آپ پاکستان کی سب سے بڑی بیماری کی اصلیت سے واقف ہو جائیں گے

آصف زرداری نے حامد میر کو نوکری سے نکوایا تو میر صاحب بینظیر بھٹو کے پاس پہنچ گئے ، پھر کیا واقعہ پیش آیا ؟ جان کر آپ پاکستان کی سب سے بڑی بیماری کی اصلیت سے واقف ہو جائیں گے

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک) نامور صحافی اور کالم نگار حامد میر اپنے ایک انٹرویو میں ہیں ۔۔۔۔۔۔حبیب جالب سے والد صاحب کی قربت تھی، میرا بھی ان کے ساتھ اچھا تعلق تھا۔ میں ان کے پاس گیا اور انھیں بپتا سنائی۔ انھوں نے کہا: تمہارے ساتھ پہلی بار ہورہا ہے، میرے ساتھ یہ کئی بار ہوچکا ہے۔ اتنی جلدی حوصلہ ہارگئے ہو؟

یہ تو کچھ بھی نہیں، ابھی تمہارے ساتھ بہت کچھ ہوگا۔ لیکن ڈٹے رہنا ہے، صحافت نہیں چھوڑنی۔ یہ ایک موقع تھا جب میں نے سوچا تھا کہ صحافت میں آنے کا فیصلہ غلط تھا۔ لیکن والدہ اور جالب صاحب نے مجھے حوصلہ دیا۔ اس کے بعد بہت کچھ ہوتا رہا، لیکن یہ احساس زیادہ شدت سے پیدا نہیں ہوا۔ البتہ ایک موقع 2014ء میں بھی آیا۔ جب مجھے گولیاں لگیں اور میں ہسپتال میں پڑا تھا۔ ”کیا میری والدہ نے مجھے صحیح مشورہ دیا تھا یا غلط“ میں نے ایک بار پھر سوچا۔ جب آہستہ آہستہ مجھے معلوم ہوتا گیا کہ اس ہسپتال کے باہر، اس کی راہداریوں میں بہت سے لوگ میری سلامتی کے لیے دُعائیں مانگ رہے ہیں، تو پھر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ والدہ نے صحیح مشورہ دیا تھا۔ اس حملے کے بعد بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان چھوڑدو۔ یہاں اب آپ کا کوئی مستقبل نہیں۔ میرا جواب مگر یہی ہوتا کہ جس اللہ نے مجھے زندگی دی ہے، جن کی دُعاؤں کے طفیل میں زندہ بچا ہوں، اگر یہ میرے ساتھ کھڑے ہیں تو مجھے بھی ان کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔ 1994ء کا سال تھا۔ میں نے آبدوز اسکینڈل پر ایک آرٹیکل لکھا۔ جس میں آصف علی زرداری صاحب کا نام بھی تھا۔ میں نے زرداری صاحب پر براہِ راست کوئی الزام نہیں لگایا تھا، بلکہ میں نے ان کے کچھ دوستوں کا ذکر کیا کہ وہ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

پھر اس میں چائنیز اور فرنچ آبدوزوں کا ذکر تھا کہ کون سی ڈیل پاکستان کے لیے بہتر ہے اور اس میں کس کا کیا مفاد ہے؟ جب یہ خبر چھپ کر آئی تو ہمارے سینئر اور آصف علی زرداری صاحب کے دوست اظہر سہیل صاحب نے اخبار انتظامیہ سے کہا کہ اگر آپ کو ٹی وی چینل کھولنا ہے تو آصف علی زرداری کو ناراض تو نہیں کرسکتے۔ ٹی وی چینلز کی باتیں اس زمانے سے چل رہی تھیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ صبح گیارہ بجے مجھے بغیر کسی شوکاز نوٹس کے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ زرداری صاحب نے آپ کو ملازمت سے نکلوا دیا ہے۔ اگلے دن روزنامہ خبریں میں ضیاء شاہد صاحب نے صفحہ اول پر خبر چھاپ دی کہ آبدوز اسکینڈل کی اسٹوری پر حامد میر نوکری سے فارغ۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس بھی کر دی اور قومی اسمبلی میں بھی یہ ایشو اُٹھا۔ میں لاہور میں ہی تھا، بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیراعظم تھیں، انہوں نے مجھے اسلام آباد بلایا اور کہا کہ یہ کیسے ہوگیا؟ میں نے تو آپ کو نہیں نکلوایا۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے تو یہی بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری صاحب نے مجھے نکلوایا ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے آصف علی زرداری صاحب سے میری ملاقات کروائی تو انھوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی وقت میرے سامنے اخبار انتظامیہ سے بات کی اور مجھے بحال کروا دیا۔ مجھے شدید دھچکا لگا اور سوچا کہ میری عزتِ نفس مجروح ہوا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے یہاں مزید ملازمت برقرار نہیں رکھنی چاہیے۔ میں نے بحالی کے بعد استعفیٰ لکھا، جس میں یہ مینشن کیا کہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نوکری سے برخاست کیا گیا، میں بھی آپ کو کوئی وجہ بتائے بغیر استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں نے ابھی تک وہ استعفیٰ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ میں نے روزنامہ ”جنگ“ سے استعفیٰ دیا اور روزنامہ ”پاکستان“ جوائن کر لیا۔ منو بھائی روزنامہ جنگ میں آگئے تھے، میں وہاں چلا گیا۔ وہاں میں نے کالم لکھنا شروع کردیا۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ میں منو بھائی کے متبادل کے طور پر روزنامہ ”پاکستان“ آیا۔ جنگ سے فراغت کی اصل کہانی کچھ یوں تھی کہ اس واقعہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے یعنی جنوری 1994ء میں مجھے اخبار نے اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دورہِ سوئزر لینڈ میں مجھے کوریج کے لیے بھیجا۔ وہاں میں نے اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کا انٹرویو کیا۔ یہ ایک بڑا اہم انٹرویو تھا۔ اظہر سہیل صاحب بھی اس دورے میں تھے۔ انہیں معلوم ہوا تو کہنے لگے: اس میں میرا بھی نام جائے گا۔ وہ کافی سینئر تھے۔ میں سمجھا شاید مذاق کر رہے ہیں۔ کیونکہ انٹرویو میں نے ہی کیا تھا، اس میں ان کا کوئی کردار ہی نہیں تھا۔ اس پر وہ ناراض ہوگئے اور اس کا اظہار بھی انھوں نے اسی وقت کر دیا۔

ایک وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں جس طرح پیپلزپارٹی کے اندر بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری گروپ تھے، اسی طرح صحافیوں کے اندر بھی دو گروپ تھے۔ ایک بے نظیر بھٹو کا حامی، دوسرا آصف علی زرداری کا۔ انہوں نے خود ہی مجھے اپنے مخالف گروپ میں دھکیل دیا۔ تو جنگ چھوڑنے کے بعد میں روزنامہ پاکستان آگیا اور یہاں سے باقاعدہ کالم نگار شروع کردی۔ 1995ء میں نوازشریف نے بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف تحریک نجات شروع کی۔ ریگل چوک پر جاوید ہاشمی صاحب کو پولیس نے بہت مارا۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ مجھے اور مہناز رفیع کو بھی مار پڑی۔ نواز شریف صاحب کی گاڑی پر فائرنگ بھی ہوئی۔ اس پر میں نے کالم لکھا: ”جو میں نے دیکھا۔“ میں نے لکھا کہ مسلم لیگ والوں کو بہت مار پڑی ہے۔ اگلے دن میرا کالم چھپ گیا تو نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں ایک پریس کانفرنس طلب کی اور کہا کہ مجھ پر جو فائرنگ ہوئی ہے، اس کا ایک گواہ بھی یہاں موجود ہے۔ چونکہ حکومت اس کی تردید کر رہی تھی کہ نواز شریف کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے۔ چنانچہ نواز شریف نے کہا: گواہ یہاں موجود ہیں۔ اور پھر نام لے کر کہا: وہ گواہ حامد میر صاحب ہیں۔

میرے لیے یہ بالکل غیرمتوقع تھا۔ میں نے جو دیکھا تھا، وہ لکھ دیا تھا۔ میں نے اس وقت ہاں یا ناں میں جواب نہیں دیا۔ اگلے دن اخبارات میں خبر چھپی کہ حامد میر نے نواز شریف کی گاڑی پر فائرنگ کی تصدیق کر دی۔ اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب منظور وٹو صاحب تھے۔ انہوں نے روزنامہ ”پاکستان“ کے ایڈیٹر اکبر علی بھٹی صاحب سے کہا کہ حامد میر کو نوکری سے فارغ کر دیں۔ بھٹی صاحب مرحوم نے مجھے بلایا اور کہا: یہ مسئلہ ہوگیا ہے۔ کہنے لگے لگ یہ رہا ہے کہ ”اس کے پیچھے بھی وہی لوگ ہیں جنہوں نے تمھیں اس سے پہلے جنگ سے نکلوایا تھا۔ تم نوجوان ہو، مگر تمھارے دشمن بہت بڑے بڑے ہیں۔“ پھر مجھے بھٹی صاحب نے کہا کہ تمھیں میں فی الحال اسلام آباد بھیج رہا ہوں۔ ”یہ بہت زیادتی ہے، آپ مجھے لاہور بدر کر رہے ہیں!!!“ میں نے ان سے احتجاج کے انداز میں کہا۔ ”اچھا کچھ دنوں کے لیے چلے جاؤ۔ لاہور نظر نہ آؤ تاکہ کم ازکم وزیراعلیٰ کی بات رہ جائے۔“ انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ اس طرح میں اسلام آباد آگیا۔ روزنامہ ”پاکستان“ اسلام آباد کا دفتر میلوڈی مارکیٹ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ

میرے پاس یہاں رہنے کی جگہ نہیں تھی۔ دفتر میں ہی سوجاتا یا پھر لاہور سے میرے دوست عامر متین اور ہما علی کے ہاں چلا جاتا۔ عامر متین اس وقت ”دی نیشن“ میں کام کرتے تھے۔ چونکہ میری فیملی لاہور میں تھی، میرے پاس یہاں سوائے صحافت کے، کرنے کو کچھ نہیں تھا سو میں یہی کرتا رہا۔ ہفتے کے ساتوں دن میرا کالم چھپنے لگا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں خبروں کی تلاش میں پورا دن مختلف دفاتر میں پھرتا، پارلیمنٹ ہاؤس چلا جاتا۔ شام کو کبھی احمد فراز صاحب کے پاس گپ شپ لگانے چلا جاتا۔ اس وقت اسلام آباد اتنا آباد شہر نہیں تھا۔ ایک دن مجھے خوشخبری سنائی گئی کہ آپ کو ایڈیٹر بنادیا گیا ہے۔ میں کالم لکھ رہا تھا اور میرا کالم کافی مقبول تھا۔ انتظامیہ کا خیال تھا کہ اس فیصلے سے اخبار کو فائدہ ہوگا۔ ایڈیٹر بننے کے بعد میں نے یہاں اپنے لیے ایک چھوٹا سا کمرہ رہائش کے لیے تلاش کیا۔ فیملی بھی یہاں منتقل ہوگئی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں خود اسلام آباد نہیں آیا تھا، بلکہ ایک طرح سے بطورِ سزا بھیجا گیا تھا جو مجھے راس آیا اور اس میں وہی لوگ ملوث تھے جو اس سے پہلے بھی میرے خلاف سازش کرچکے تھے۔ پنجابی میں کہتے ہیں: ”کبے نوں لت راس آگئی۔“


Top