امریکہ کا اگلا صدر کون بنے گا ؟ پاکستان کا مفاد کس کی جیت میں ہے ؟ اوریا مقبول جان نے حیران کن پیشگوئی کردی

لاہور (ویب ڈیسک) جس طرح گیارہ ستمبر کا واقعہ ان بالادست پس پردہ قوتوں کی کاروائی ہے، جس کا علم تو امریکی اسٹبلشمنٹ کے بڑے بڑے چہروں کو بھی نہ تھا، ویسے ہی ٹرمپ کا جیتنا بھی گذشتہ دو سو سال کے الیکشن کے کھیل پر چھائے ہوئے مہروں کی لا علمی کا اظہار ہے۔

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ قوتیں کون سی ہیں، کیا چاہتی ہیں اور ٹرمپ کا اس سارے معاملے میں کردار کیا ہے؟ ٹرمپ کوجس مشن کے لیئے امریکی صدارت پر بٹھایا گیا تھا اسے اسکی اسی مدتِ صدارت میں پورا ہوجانا تھا۔ عالمی صہیونیت جو گذشتہ ایک سو سال سے اس دنیا کے ایسے نقشے کی از سرنوترتیب کے لیئے سرگرم عمل ہے، جس کا مرکزی اقتدار یروشلم میں ’’تختِ داؤد‘‘ پر بیٹھا ہوا مسیحا ہو گا اور اس کی اس عالمی حکومت کے سامنے کسی دوسری عالمی طاقت کا وجود ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ ٹرمپ کے آخری سالِ صدارت میں اس جانب پیشقدمی ہو جانا تھی مگر کرونا وائرس نے اسے تھوڑا مؤخر کر دیا۔ اس سفر کا آغاز 23اکتوبر 1995ء کو ایک ایکٹ کے ذریعے ہواتھا، جب امریکی حکومت نے یروشلم کو تل ابیب کی جگہ اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔ لیکن اس پر عملدرآمد 25 سال تک رکا رہا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس بات کا اعلان کر دیا اور اپنی ایمبیسی وہاں منتقل کر دی۔ یہ ہے وہ آغاز ہے جس کی اطلاع رسول اکرم ﷺ نے بھی دی تھی، ’’بیت المقدس کی آبادی، مدینہ کی ویرانی، اور مدینہ کی ویرانی بڑی لڑائی کا ظہور (مسند احمد، ابوداؤد، طبرانی)۔اس دارالحکومت کی منتقلی سے پہلے اسرائیل نے خود کو اسقدر مضبوط کر لیا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار پیدا کرنے والا ملک بن چکا تھا۔ 85فیصد ڈرون وہاں بنتے تھے اور دنیا کی ہر بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کا ہیڈ کوارٹر وہاں موجود تھا۔

صرف وال سٹریٹ کے دفاتر بند کر کے یروشلم میں کمپیوٹر کھولنے کی دیر تھی کہ یروشلم دنیا کا معاشی دارالحکومت بھی بن جاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بہت بڑی عالمگیر لڑائی کی منصوبہ بندی تھی جو امریکہ، چین، روس اور بھارت جیسے ملکوں کو بے کار، ناکارہ اور ایسا تباہ حال بنا دے جیسے سویت یونین دنیا کے نقشے سے عالمی طاقت کے طور پر ختم ہو گیا تھا۔ آج سے تین سال قبل ایک کتاب مارکیٹ میں آئی تھی جس کو پال کورنش (Paul Cornish) اور کنگسلے ڈونلڈسن (Kingsley Donaldson) نے تحریر کیا تھا۔ اس کتاب کا نام تھا ’’2020 world of war‘‘۔ اس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے نومبر کے الیکشن کے آس پاس کی صورت حال ایسی دکھائی گئی تھی جس میں ’’امریکہ اور یورپ میں نسل پرستی اپنے عروج پر ہو گی، چین اپنا دو سو سالہ پرانا عروج حاصل کرنے کے لیئے لڑ رہا ہوگا ،دینا کی معیشت تباہ ہو چکی ہو گی اور پاکستان کی فوج اور عوام مکمل طور پر ایک جہادی روپ میں ڈھل چکے ہوں گے‘‘۔ یہ کتاب ٹرمپ کے اس کردار پر مفصل روشنی ڈالتی ہے جو اس نے ابھی تک ادا نہیں کیا۔ اس کردار کو ادا کرنے کے لیئے ابھی بھی اس کی ضرورت ہے۔ اس لیئے یہ بات طے ہے کہ امریکی اسٹبلشمنٹ سے بھی بالاصہیونی اسٹبلشمنٹ ایک دفعہ پھر ٹرمپ کو وائٹ ہاوس میں ضرور بٹھائے گی۔ اگر وہ نہ بیٹھا تو پھر ایسی لڑائی شروع ہو گی کہ وہاں کوئی اور بھی نہیں بیٹھ سکے گا۔