جناب : آپ ہزار بار برطانیہ آئیں مگر میں پیشگی معذرت خواہ ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔ بورس جانسن سے خصوصی ملاقات کرنے اور نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے پرعزم عمران خان کو حقیقت حال سے آگاہ کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) کیا نواز شریف کو واپس لانا اتنا ہی ناگزیر ہے کہ وزیراعظم عمران خان باقی سب کام چھوڑ دیں اور دن رات اسی فکر میں غلطاں ہو جائیں،کیا ملک میں اس سے بہت بڑے اور اہم مسئلے منہ پھاڑے نہیں کھڑے،کیا اُن پر توجہ دینا مفید ہو گا یا نواز شریف کو

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔واپس لانے پر تمام توانائیاں صرف کرنا؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر نواز شریف کو واپس لانے کی مہم کامیاب ہو بھی گئی تو اس سے کیا فرق پڑے گا، کیا ملک کی معیشت بہتر ہو جائے گی،کیا ملک میں انصاف کا نظام سیدھا ہو جائے گا، کیا عام آدمی کے مسائل حل ہو جائیں گے؟……ایسا تو کچھ بھی نہیں ہونا،البتہ اَنا کی تسکین ضرور ہو گی،سیاسی پوائنٹ سکورنگ ضرور بڑھے گی، بھیجا بھی آپ نے ہے اور اب وزیراعظم واپس بھی اپنے زورِ بازو سے لانا چاہتے ہیں۔اب تو انہوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ انہیں نواز شریف کو لانے کے لئے خود برطانیہ جانا پڑا تو جائیں گے، وزیراعظم برطانیہ بورس جانسن سے بھی بات کریں گے۔نجانے پیارے کپتان نے یہ بات کس ترنگ میں کہی ہے؟ یہ شاید دُنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا کہ کسی ملک کا وزیراعظم اپنے ایک سیاسی مخالف اور ”سزا یافتہ“ شخص کو مانگنے دوسرے ملک جائے۔غالب ِ خستہ کے بغیر آخر کون سے کام بند ہیں،جنہیں چالو کرنے کے لئے عمران خان ہر قیمت پر نواز شریف کو پاکستان واپس لانا چاہتے ہیں؟کیا نواز شریف کے باہر رہنے سے امورِ حکومت نہیں چل رہے،یا عوام کی زندگی میں خوشحالی نہیں آ رہی۔کام تو اور بہت سے کرنے کے ہیں، مگر وزیراعظم سارا زور نواز شریف کو لانے پر صرف کر رہے ہیں۔حیرت ہے کہ برطانیہ میں پڑھنے اور زندگی کا بڑا عرصہ گذارنے کے باوجود وزیراعظم عمران خان یہ سمجھ رہے ہیں کہ

وہاں مغلیہ سلطنت کا راج ہے اور بادشاد جسے چاہے چھوڑے اور جسے چاہے پکڑے، کوئی اُسے روکنے ٹوکنے والا نہیں۔انہوں نے برطانیہ جانے کی بات ایسے کی ہے، جیسے وہ نواز شریف کا ہاتھ پکڑ کر انہیں زبردستی پاکستان لے آئیں گے۔اب اگر کوئی کہے کہ یہ عوام کو بے وقوف بنانے اور اُن کے جذبات سے کھیلنے والی بات ہے تو اُسے غلط کیونکر کہا جائے؟ برطانیہ کوئی پاکستان تھوڑی ہے کہ جو ایک فون کال پر ایمل کاسی کو امریکہ کے حوالے کر دے۔وہاں کا اپنا ایک مضبوط قانونی نظام ہے اور کوئی طاقتور سے طاقتور شخص بھی اُسے چیلنج نہیں کر سکتا۔عمران خان شاید بورس جانسن کو بھی اپنے جیسا بااختیار وزیراعظم سمجھ رہے ہیں،جو سب کچھ کر سکتا ہے،جس طرح ہمارے پیارے وزیراعظم آئے روز کہتے ہیں، ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“……ایک ایک کو چن چن کے قید میں ڈالوں گا، اگر بورس جانسن یہ برطانیہ میں کہے تو شام تک بوریا بستر سمیٹ کر گھر چلا جائے۔بورس جانسن تو شاید کل سے ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے ہوں گے کہ مجھے تو اپنے ذاتی کاموں کے لئے سرکاری گاڑی تک استعمال کرنے کا اختیار نہیں اور بائیسکل پر جاتا ہوں، پاکستانی وزیراعظم مجھ سے اپنا سابق وزیراعظم واپس مانگ رہے ہیں۔شاید کسی دن وہ پیارے کپتان کو فون کر کے کہیں:”سرکار آپ جم جم برطانیہ آئیں، لیکن مجھے کسی مشکل میں نہ ڈالیں یہاں بندہ چھوڑنا یا وطن واپس بھیجنا وزیراعظم نہیں، عدالتوں کا اختیار ہے۔اُدھر وزیر اطلاعات شبلی فراز گویا ایک خوشخبری کے انداز میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ

نواز شریف 15 جنوری تک پاکستان میں ہوں گے۔ اس کا مریم نواز نے ترکی بہ ترکی یہ جواب دیا ہے کہ 15جنوری تک عمران خان کی حکومت ہی نہیں رہے گی……نواز شریف کا جنون حکومت پر سوار ہو گیا ہے۔ایسا کیوں ہوا؟ اس کا اشارہ خود وزیراعظم عمران خان کے اُس انٹرویو سے ملتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ کر کے لندن گئے،کچھ عرصہ خاموش رہے، پھر بولنا شروع کر دیا۔یہی کچھ مریم نواز نے بھی کیا،تو اصل وجہ یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنی خاموشی کیوں توڑی، خاموش رہتے تو بھلے دس سال تک نہ آتے، مگر یوں بیرون ملک بیٹھ کر چوکے چھکے لگانا ناقابل ِ معافی جرم ہے،اِس لئے واپسی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہمارا پیارے کپتان کو مشورہ تو یہی ہے کہ وہ نواز شریف کو واپس لانے کا خیال دِل سے نکال دیں اور اپنی ساری توجہ ملک کے معاشی حالات بہتر بنانے پر مرکوز کر دیں۔جتنا نواز شریف کا ذکر ہو گا، اتنا ہی اُن کی اہمیت بڑھتی جائے گی۔برطانیہ والے اتنے سیدھے نہیں کہ کسی سیاسی رہنما کے بارے میں اشتہار چھپے یا اُس کے ملک کا وزیراعظم اُسے واپس مانگے تو وہ پورے اہتمام کے ساتھ اُسے اپنے ملک سے نکال دیں۔ وہاں سے تو عام آدمی کا لانا مشکل ہو جاتا ہے،نواز شریف تو پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اور عالمی سطح پر جانی پہچانی شخصیت ہیں، انہیں بغیر کسی قانونی جواز کے ملک بدر کرنا برطانوی نظام حکومت و انصاف میں تقریباً ناممکن ہے،پھر اگر یہ معاملہ وہاں کی عدالت میں جاتا ہے تو ہمارے نظامِ انصاف کا پول بھی کھل جائے گا،جس کے تحت نواز شریف کو سزا سنائی گئی۔ پھر یہ نکتہ بھی ضرور اُٹھے گا کہ جس جج نے نواز شریف کو سزا سنائی،اُسے بعدازاں برطرف کر دیا گیا……اس حوالے سے جگ ہنسائی کا پہلے ہی بہت سامان ہو چکا ہے۔کیا اب عالمی سطح پر یہ بتانا ضروری ہے کہ نواز شریف ہمارے طبی نظام کو ”ماموں“ بنا کر برطانیہ آئے۔صرف طبی ہی نہیں، حکومتی اور عدالتی نظام بھی اتنا کم عقل ثابت ہوا کہ ایک مجرم اُسے چکمہ دے کر نکل گیا۔بہتر ہے کہ اس پر پردہ پڑا رہے اور اُس دن کا انتظار کیا جائے جب نواز شریف خود واپس آ جائیں ……لہٰذا جو کام نہیں ہو سکتا اُس کا ڈھونڈورا پیٹ کر عوام کو بے وقوف بنانے سے احتراز کیا جائے، قوم اب باشعور ہو چکی ہے