اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک میں روز بروز تیزی ۔۔۔۔۔کیا عمران حکومت گرنے کے امکانات موجود ہیں ؟ صف اول کے صحافی کا دلائل سے بھر پور سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) اپوزیشن کی تحریک حکومت کے اعصاب پر سوار، وفاقی وزیروں، مشیروں اور لائق فائق ترجمانوں کو کوئی اور بات نہیں سوجھتی، سائنس کے وزیر فواد چوہدری اپنا کام دھندہ چھوڑ کر اس بات پر مصر ہیں کہ ن لیگ کے ارکان استعفے نہیں دیں گے۔ ایک نے یقین دلایا کہ

نامور کالم نگار مشتاق سہیل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پیپلز پارٹی کے ارکان مستعفی نہیں ہوں گے۔ خواجہ آصف نے یہ کہہ کر خوفزدہ کردیا کہ اپوزیشن کے 156 ارکان ہیں 130 بھی مستعفیٰ ہوگئے تو نئے الیکشن پکے۔ حضرت جی پریشان، بڑے پشیمان۔ جلسوں کے اعلانات اعصاب پر سوار،کہنے لگے ”میں جمہوریت، اپوزیشن لٹیرے ، لوگ نظریے کے لیے باہر نکلتے ہیں چوری بچانے کے لیے نہیں۔“ ذات گرامی سے ”میں“ کی نفی نہیں ہوسکی۔ ورنہ ولایت کے درجے پر فائز ہوجاتے۔ اپوزیشن کے ایک لیڈر نے کہا ”یقینا اب کوئی ٹھوکر لگے گی بہت مغرور ہوتے جا رہے ہیں۔“ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جلسوں کی اجازت دینے کا فیصلہ، پھر پکڑ دھکڑ کیوں؟ 2014ء میں تو شاہراہ دستور تک کسی نے راستہ نہیں روکا تھا۔ اپوزیشن کو کنٹینر دینے کے وعدے لیکن وہی کنٹینر جاتی امرا جانے والی سڑک پر لگا کر راستے بند کردیے گئے۔ حبیب جالب کی روح سے معذرت کے ساتھ ”خوف زدہ ہیں سارے لیڈر ایک نہتی نانی سے“ مریم نواز کسی طرح جلوس کے ساتھ نہ جاسکے۔ مریم اورنگزیب کو اس پر بڑا غصہ آیا۔ کہنے لگیں ”راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے۔ ڈھیر لگ جائیں گے رستوں میں گریبانوں کے۔“ ابتدائی دو جلسوں کے بعد بھی بنیادی سوال ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی تحریک حکومت مخالف ہے یا نظام مخالف، بظاہر حکومت مخالف لیکن اس سے موجودہ نظام، سیٹ اپ اپ سیٹ ہوگا۔ 156 استعفیٰ آگئے تو ضمنی نہیں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے یا پھر کوئی عبوری یا نگراں حکومت۔ وزیر اعظم کا اصرار ہے کہ لوگ اپوزیشن کی کال پر باہر نہیں نکلیں گے۔

نکل آئے ہیں اب کیا ہوگا؟ فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف جوابی جلسے کرے گی۔ کس عقل مند نے تجویز دی کشیدگی کے ماحول میں جوابی جلسوں سے تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ کسی دامن پر چنگاری سے آگ بھڑکی تو کسی علاقہ یا صوبہ تک محدود نہیں رہے گی۔ پکڑ دھکڑ محاصروں، گرفتاریوں یا ریلیوں اور جلسوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے پولیس والوں کی نوکریاں اور ٹرانسفر تو شاید بچے رہیں لیکن حالات بے قابو ہونے کا امکان بڑھتا جائے گا۔ پنجاب کے کرتا دھرتاؤں کو شاید اس قسم کی صورتحال کا تجربہ نہیں ہے انہیں سوچنا ہوگا کہ دو سالوں کے دوران بہت خرابی ہوچکی۔ مزید کسی اقدام کے نتائج و عواقب کسی کے بس میں نہیں ر ہیں گے ”سب مال پڑا رہ جائے گا۔ جب لاد چلے گا بنجارہ“ اندرونی کہانیاں لانے والے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ حیران ہے کہ گزشتہ سالوں کے ناکام تجربوں کے بعد 2018ء کے ایک یونیک اور منفرد تجربہ سے بھی کیا حاصل ہوا ہے۔ لیکن یہ سارے مفروضے اپوزیشن کی تحریک کی کامیابی یا ناکامی سے منسلک ہیں۔ تحریک کے آغاز پر خطرات کا اظہار چشم کشائی کے لیے ضروری، اپوزیشن کو بھی حکمت عملی کا تعین کرتے ہوئے محتاط رویہ رکھنا ہوگا ایسا نہ ہو کہ ان کے غیر محتاط رویے اور جذباتی نعروں سے اسٹیبلشمنٹ کو فریق بنانے کا تاثر ابھرے اس صورت میں حکومت بچنے میں کامیاب رہے گی۔ اپوزیشن ٹارگٹ بن جائے گی تحریک کو فصل کی طرح پکنے میں دیر لگے گی۔ محتاط رہنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ یادش بخیر مولانا مفتی محمود اپنے جگری ساتھی مولانا غلام غوث ہزاروی کو جذباتی باتوں سے روک دیا کرتے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کو بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے بہت کچھ سوچنا ہوگا۔ آخری بات کیا حکومت جانے کا خطرہ ہے؟ مخصوص لہجے کے سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تحریک سے حکومت گرنے کا نہیں ہلنے کا خطرہ ہے۔