مریم نواز تمام حدیں پار کر گئیں: عاصم سلیم باجوہ کی دشمنی میں ایک قدم اور آگے۔۔۔ جلسوں میں کارکنوں کی تواضع ’’باجوہ پیزے‘‘ سے کرنے کا فیصلہ، تفصیلات آپ کو حیران کر ڈالیں گی

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آئندہ جلسوں میں بریانی یا قیمے والے نان نہیں، بلکہ عاصم سلیم باجوہ کے پیزا سے تواضع کی جائے گی۔ مفت کھانا، وہ بھی عوام کے پیسے ہیں۔ کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام پی ڈی ایم کے

عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی والوں دیکھا کہ کل ایک شخص کل چیخ چیخ رہا تھا، لوگوں کو کہتا گھبرانا نہیں، لیکن خود ایک ہی جلسے سے گھبرا گیا ہے، ہم جانتے ہیں آپ دباؤ اور پریشر میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریر کے ایک ایک لفظ، آپ حرکات اور سکنات سے آپ کا خوف جھلک رہا تھا، یہی خوف عوام دیکھنا چاہتی ہے، یہ عوام کی طاقت کا خوف ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو کوئی سکھانے والا نہیں تو نوازشریف سے ہی سیکھ لیتے، تم نے 126 دن دھرنا دیا، لیکن نوازشریف نے تو ایک دن بھی گھبرا کر تمہارا نام نہیں لیا، ایک دن بھی نہیں گھبرایا۔ اب بھی نوازشریف تمہارا نام نہیں لے گا، کیونکہ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں، تم تو ایک ملازم ہو، اب وزیراعظم کی سیٹ پر ملازم ہو۔ جس کی سلیکشن کی عوام کو لاکھوں کی تنخواہ دینا پڑتی ہے۔ تم کبھی عوام سے مخاطب نہیں ہوتے بلکہ نوازشریف اور ان لانے والوں کو ہی مخاطب ہوتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کا نام لینا پسند نہیں کرتی۔ مجھے کہا یہ بچی ہے لیکن نانی ہے، میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں ، میں ایک بچے کی نہیں دو بچوں کی نانی ہوں۔ یہاں جلسے میں بیٹھی بہت ساری خواتین نانیاں اور دادیاں ہیں۔ میں تھکی ہوتی ہوں تودونوں نواسے میرے پاس آتے ہیں تو تھکاوٹ ختم ہوجاتی ہے۔ میں آپ کو اس طرح کی باتوں پر نشانہ نہیں بناؤں گی، کیونکہ میں نوازشریف اور کلثوم نواز کی بیٹی ہوں۔ آج بھی میں کمرے میں داخل ہوتی ہوں تو میرے والد کرسی سے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں نے گھر میں یہ ماحول دیکھا ہے۔ یہ رشتے ان کو نصیب ہوتے جو رشتوں کا احترام جانتے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بیٹیوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ آصف زرداری بیٹی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو مجھے بڑی بہن سمجھتا ہے۔ جب وقت آئے گا تو ہم ایک دوسرے کے حریف بھی ہوں گے۔ ہم ایک دوسرے کی تضحیک نہیں کریں گے۔ مریم نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی والدہ شہید ہوئی تو جو میرے والد اور ان کی والدہ کا رشتہ تھا وہ بلاول اور میں نبھا رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کی عزت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بزدل ہو، نوازشریف کی تقریر نہیں سنا سکتے، تو اس پر تبصرے کرنا بھی آپ کا حق نہیں۔ تقریر ٹی وی پر نہیں چلی، لیکن آپ کہاں چھپ چھپ کر تقریر سن رہے تھے۔ کل کہتے کہتے رک گئے کہ نیب ہمارے ساتھ ہے، سچ اٹک جاتا ہے لیکن جھوٹ بڑی روانی سے بولتے ہو۔ کراچی جانتا ہے کہ نیب کس کے اشارے پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹر نے جس نوکری پر تمہیں رکھا ہوا ہے، اس کے علاوہ کوئی کام کیا؟ ایسا شخص جس کا ہاتھ اس کے امیر دوستوں کی جیبوں پر ہو، اس کو الزام لگانے کا کوئی حق نہیں۔ ایسے شخص کو بلاول یا مجھ پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بتاؤ، آپ نے تو 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن تم نے گھر چھین لیے، چولہے ٹھنڈے ہوگئے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا لیکن خاندان کے خاندان بے روزگار کردیے۔ کراچی شہر میں پی ٹی آئی کے سب سے زیادہ جعلی ایم این ایز ہیں، کیا کوئی سڑ ک بنائی؟ کوئی کام کیا؟ کوئی ایک کارنامہ تو بتاؤ جو تم نے کیا ہو۔ تمہارا کارنامہ بی آر ٹی ہے، جس کو تم نے 120 ارب میں بنایا ہے، اس کے مقابلے میں 80 ارب میں 4 میٹرو بسیں چلائی گئیں۔ لاہور، کراچی، ملتان کی بسوں میں آگ نہیں لگتی، لیکن پشاور میں آگ لگ رہی ہے۔ ان کا مزید کہا تھا کہ روپے کو مٹی میں ملانا، غربت لانا، 5.8 شرح نمو کو زیرزمین لانا، کاروبار ، صنعتوں کو تباہ کرنا ، سقوط کشمیر تمہارا کارنامہ ہے۔