آج مریم نواز پاور شو کرا دے یا یہ جلسہ ناکام ہو جائے دونوں صورتوں میں مریم نواز اور نواز شریف کی فتح ہے ، مگر کیسے ؟ صف اول کے صحافی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) مخدوم جاوید ہاشمی ملتان میں جب اپنے گھر کے باہر پولیس نفری کے انچارج سے اُلجھ رہے تھے کہ وہ کیوں آئے ہیں،اُن کی موجودگی سے کالونی کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے، تو اے ایس آئی نے سخت لہجے میں کہا، آپ افسروں سے بات کریں، ہمیں تو جو حکم ملا ہے،

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کر رہے ہیں۔ اس پر جاوید ہاشمی نے جواب دیا کہ مجھے گرفتار کرنا ہے تو کرو،خواہ مخواہ یہاں چھاؤنی ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟لیکن پولیس والے نہ گئے،البتہ جاوید ہاشمی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر یوم سیاہ کے مظاہرے میں پہنچ گئے اور انہوں نے وہاں دھواں دھار خطاب کیا،اس دوران ”اک بہادر آدمی، ہاشمی ہاشمی، اور باغی باغی“ کے نعرے لگتے رہے۔مخدوم جاوید ہاشمی شاید اتنا جارحانہ خطاب نہ کرتے،اگر اُن کے گھر پر پولیس نہ بھیجی جاتی۔ نجانے ایسے فیصلے کون کر رہا ہے، کیا جاوید ہاشمی جیسے شخص کو پولیس سے ڈرایا جا سکتا ہے؟ کیا انہیں قید خانے جانے کا کوئی ڈر خوف ہے؟ ظاہر ہے اِن باتوں سے جاوید ہاشمی کی زندگی بھری پڑی ہے۔ ایسے میں اُن کے گھر کو پولیس کا گھیرنا سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ سوئے ہوئے شیر کو جگایا جائے۔یہ تو ملتان کا واقعہ ہے،خبریں تو پورے پنجاب سے آ رہی ہیں کہ پولیس کو گوجرانوالہ کا جلسہ ناکام بنانے کے لئے ٹاسک دے دیا گیا۔حیرت ہے کہ جو ایکشن کسی تحریک کے آخری دِنوں میں کئے جاتے ہیں، وہ تحریک انصاف والے آغاز ہی میں کر رہے ہیں۔خواہ مخواہ ایک تحریک کا ٹمپو بنایا جا رہا ہے۔ طرح طرح کے بیانیے سامنے لائے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ کورونا کے پھیلنے کا خدشہ بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جانے لگا ہے۔ حکومت آخر کس چیز سے گھبرا رہی ہے؟جس انداز سے حکومت نے اپوزیشن کے جلسے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے

وہ اپوزیشن کی تحریک میں جان ڈال سکتا ہے؟ آخر اس کی کیا ضرورت تھی کہ ڈپٹی کمشنر جلسے کی اجازت کے معاملے کو طول دیں۔کیا ایسے جلسے اجازت کے محتاج ہوتے ہیں؟ کیا اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک اُس کی اجازت سے شروع کی ہے؟ اب اگر اپوزیشن یہ کہتی ہے کہ جلسے میں آنے والوں کو جہاں روکا گیا،وہیں جلسہ ہو گا تو اسے ناکام بنانے کے لئے حکومت کیا کرے گی؟ گوجرانوالہ کی طرف آنے والے قافلے اگر جگہ جگہ روکے گئے تو یہ تحریک خود حکومت کی بے وقوفی کے باعث شہر شہر پھیل جائے گی۔حکومت کی کمزوری کا تاثر علیحدہ ابھرے گا۔اپوزیشن اگر اپنی حکمت ِ عملی سے اپنے پہلے جلسے کو ہی اس حد تک لے جاتی ہے کہ حکومت کو کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنے پڑیں یا دوسرے شہروں سے آنے والے کارکنوں کو ایک دن کے لئے حراست میں لے لیا جائے تو سمجھیں کہ اپوزیشن کا مقصد پورا ہو گیا،اب وہ اگلے جلسے کے لئے مزید تازہ دم ہو کر نکلے گی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ126دن کے دھرنے کا تجربہ رکھنے والی تحریک انصاف اپنے دورِ اقتدار میں چند گھنٹے کے جلسے پر اتنی سنجیدہ ہو گئی ہے۔ فرض کرتے ہیں کہ گوجرانوالہ کے جلسے میں پورا گوجرانوالہ بھی اُمنڈ آتا ہے، تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ کیا حکومت کے رہنے کا جواز ختم ہو جائے گا یا آئینی طور پر اس کا مستعفی ہونا ناگزیر ہو گا؟ جلسے کو ناکام بنانے کے لئے ایسے ہتھکنڈے ہمیشہ جلتی پر تیل ڈالتے ہیں ……

جس نے گھر سے نہیں بھی نکلنا ہوتا، وہ بھی جلسے کا منظر دیکھنے کے لئے ہی میدان میں آ جاتا ہے۔ اپوزیشن کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ بالفرض اُس کے جلسے میں زیادہ لوگ نہیں آتے تو اُس کے پاس اس کا ٹھوس جواب موجود ہو گا کہ پکڑ دھکڑ، پابندیوں اور بے تحاشا رکاوٹوں کی وجہ سے عوام جلسے میں نہیں پہنچ سکے۔اس کے جواب میں حکومت جو بھی کہے، لیکن سنی اپوزیشن کی ہی جائے گی،چونکہ مخالف تحریک کے دِنوں میں پلڑا ہمیشہ اپوزیشن کا بھاری رہتا ہے۔اب اگر مسلم لیگ (ن) کے رہنما یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کو نواز شریف نے احتجاج کے لئے کھلی چھوٹ دی، جلسے جلوسوں اور دھرنوں کو نہیں روکا، گھبراہٹ میں فیصلے نہیں کئے،جبکہ موجودہ حکومت کے تو پہلے جلسے پر ہی ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔مجھے اس خبر پر بڑی حیرت ہوئی تھی کہ پی ٹی آئی16اکتوبر کو،یعنی اُسی دن جب اپوزیشن کا جلسہ ہے، ایک ریلی اور جلسہ منعقد کرنا چاہتی ہے اور اجازت کے لئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست بھی دی ہے۔اس سے بڑی حماقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ از خود ملک میں تصادم کی فضا پیدا کر دیں۔اس کا فائدہ کسے ہو گا؟ ظاہر ہے اپوزیشن اس صورتِ حال میں سرخرو رہے گی اور حکومت انتشار اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے دباؤ میں آ جائے گی۔یہی اپوزیشن کا مقصد ہوتا ہے۔ حکومت کی کامیابی تو یہی ہے کہ وہ حالات کو نارمل رکھے،اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو اپوزیشن کی کامیابی کے امکانات

روشن ہو جاتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اپنی بری کارکردگی کے باعث یہ سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کو فری ہینڈ دیا گیا تو عوام اُس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے؟بظاہر یہی لگتا ہے…… جب کابینہ اجلاس میں وزراء یہ کہنے لگیں کہ مہنگائی کو کنٹرول کریں، وگرنہ اب ہمارے لئے عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عوام میں بڑی تیزی سے یہ خیال جڑ پکڑ رہا ہے کہ موجودہ حکومت انہیں کوئی معاشی ریلیف نہیں دے سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان تقریباً بارہ مرتبہ مہنگائی کے خلاف نوٹس لے چکے ہیں، اُن کا ہر نوٹس رائیگاں جاتا ہے اور اشیاء مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس بار انہیں کہنا پڑا کہ اب وہ کسی مافیا کو نہیں چھوڑیں گے……لیکن کہنے اور عمل کرنے میں جو فرق ہے، وہ اس حکومت میں واضح نظر آتا ہے، عمل کی گٹھڑی خالی ہے اور زبانی جمع خرچ کی زنبیل بھری ہوئی ہے۔اس حکومت کا دو سالہ ٹریک ریکارڈ یہ ہے کہ کسی شے کی بڑھتی ہوئی قیمت کو واپس نہیں لا سکی، نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی امید نظر آتی ہے۔یہ صورتِ حال حکومت مخالف اپوزیشن کے لئے بڑی سازگار ہے۔ وہ اسی کو کیش کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت اگر اپوزیشن کی تحریک کو ریاستی طاقت سے دبانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ اُس کی ناقص حکمت ِ عملی ہو گی۔ حکومت کے اقدامات اپوزیشن کی تحریک کا ٹمپو بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔