عمران خان بے نقاب: تبدیلی کے دھوکے میں پاکستانیوں کے ساتھ کیا دھوکہ کیا گیا ؟ نامور صحافی مظہر برلاس نے دل کی بھڑاس نکال ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) 2018کے الیکشن میں لوگوں نے روایتی پارٹیوں کو چھوڑ کر تحریک انصاف کو جتوایا، لوگوں نے عمران خان سے بہت امیدیں وابستہ کیں، لوگوں کا خیال تھا کہ پاکستان بدل جائے گا، تبدیلی کی خواہش میں لوگ پی ٹی آئی کے ووٹر بن گئے مگر اقتدار میں آ کر عمران خان نے

بھی پرانی رسموں کو نبھایا بلکہ ان کے مشیروں کی فوج نے اپنی بری کارکردگی سے مہنگائی اور بیروزگاری سمیت مسائل میں اضافہ کیا۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے اپنے ذہین ترین مشیروں کے باعث 51برس حکومت کی تھی مگر عمران خان اپنے نالائق مشیروں کے سبب کارکردگی کے آئینے میں بےنقاب ہو گئے ہیں۔پاکستان میں ایک عام آدمی کی اوسطاً کمائی بارہ سے چودہ ہزار روپے ہے۔ حکومت کے قابل مشیروں سے چھوٹی سی گزارش ہے کہ وہ چودہ ہزار کمانے والے کسی بھی فرد کے گھرانے کا بجٹ بنا دیں۔ میرے نزدیک پاکستان کی بربادی میں آکسفورڈ اور ہارورڈ سمیت بیرونی یونیورسٹیوں سے پڑھنے والوں کا بڑا کردار ہے، یہ لوگ جہاں پڑھتے ہیں، جن لوگوں کے ساتھ پڑھتے ہیں، ان کے مسائل عام پاکستانیوں جیسے نہیں۔ انہی لوگوں نے ملکی سیاست میں بدعنوانی کو رواج دیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چالیس برسوں سے اقلیت حکومت کر رہی ہے کیونکہ اکثریت تو بھوک، افلاس اور مہنگائی کا شکار ہے۔ ان کا تو کوئی نمائندہ پارلیمان کا حصہ نہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان میں کوئی عام آدمی الیکشن لڑ ہی نہیں سکتا کیونکہ الیکشن دولت کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ جب پاکستان کے اقتدار میں خالصتاً عام پاکستانی نہیں آتا عوام کی زندگی میں تبدیلی نہیں آ سکے گی، ان انگریزی ماڈلوں سے جب تک جان نہیں چھوٹتی، اُس وقت تک بربادیوں کا سفر جاری رہے گا۔میں نے جنوبی ایشیا کے کئی ملکوں کے سربراہوں کو دھوتی کرتا پہنے عمدہ کارکردگی دکھاتے دیکھا جبکہ پاکستان کے حکمرانوں کو برینڈڈ سوٹ پہن کر بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے دیکھا۔ پاکستانی حکمرانوں کے لئے کارکردگی بنیادی سوال ہے جس کا جواب حکمرانوں کے پاس نہیں۔ بقول غالبؔ ؎یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح۔۔۔کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا