بریکنگ نیوز: بدر رشید پولیس کے ساتھ رابطہ میں آگیا۔۔!! تعاون کرنے کو راضی،مزید اہم انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز اور لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا معاملہ، ن لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کروانے والا بدر رشید پولیس کے ساتھ رابطہ میں آگیا۔ مدعی مقدمہ بدر رشید نے پولیس سے تحفظ مانگ لیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ساتھیوں کے

خلاف ایف آئی آر کا معاملہ سامنے آنے پر بدر رشید نے پولیس کے ساتھ رابطہ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے تحٖفظات کا اظہار کیا، بدر رشید کا کہنا تھا کہ مقدمہ کے اندراج کے بعد مخالفین اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے۔ پولیس نے مدعی مقدمہ کو نقل و حمل محدود کرنے کا مشورہ دے دیا۔ پولیس ذرائع کی اطلاعات کے مطابق بدر رشید کو کسی بھی جگہ جانے سے قبل پولیس کو آگاہ کرنے کا کہا گیا۔ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف اوروزیراعظم آزادکشمیرراجا فاروق حیدرسمیت چالیس لیگی رہنماؤں کے خلاف تھانہ شاہدرہ میں سنگین نوعیت کامقدمہ درج ہواجس میں بغاوت اورغداری کی دفعات شامل ہیں۔یہ مقدمہ ایک شہری” بدر رشید ہیرا “نےدرج کرایا۔ بدررشید ہیرا پی ٹی آئی یوتھ ونگ راوی ٹاؤن کاصدرہے۔وہ تحریک انصاف کی جانب سے یوسی چئیرمین کا الیکشن بھی لڑچکا ہے۔لیکن وزیرریلوے شیخ رشید کاکہناہےکہ حکومت کا اس مقدمےسےکوئی لینانہیں۔وزیراطلاعات شبلی فرازایک قدم اورآگےنکل گئےاوربدررشیدکوپہچاننےسےہی انکارکردیا۔کہاہوسکتاہے یہ ایف آئی آر ان کے اپنوں نے کرائی ہو۔ ن لیگ کی جانب سےحکومتی رویےپرشدیدتنقیدکی گئی۔مریم اورنگزیب نےکہاحکومت نےایک شخص کومسنگ پرسن بنادیا۔عظمیٰ بخاری نےکہاکہ غداری کامقدمہ درج کرانےوالاہیراخودکریمنل نکلا۔ ناجائزاسلحہ اورکارسرکارمیں مداخلت کےمقدمات تھانہ شاہدرہ، پرانی انارکلی اورشرقپور میں درج ہیں۔ واضح رہے کہ غداری اوربغاوت کی دفعات کےحامل سنگین نوعیت کے مقدمات عام طورپر حکومت کی اجازت کے بغیر درج نہیں ہوتے۔توسوال یہ ہےکہ بدررشیدنےسنگین مقدمہ اتنی آسانی سےکیسےدرج کرادیا؟ بدررشیدمقدمہ درج کراکے کہاں غائب ہوگیاتھا؟ بدر رشید کو 2018 میں پولیس نے گرفتار کیا تھا,ملزم کی جیل میں تصاویر بنا کر اس کا کریمینل ریکارڈ بھی اکٹھا گیا، بدر رشید اپنے گینگ کے ساتھ لوگوں پر اٹیک کرتا تھا، پولیس ریکارڈ کے مطابق بدر رشید ناجائز اسلحہ اور کار سرکار میں مداخلت، مقدمات شاہدرہ میں درج ہوئے۔ پولیس سے دست درازی کا مقدمہ پرانی انارکلی میں درج ہے۔