یہ بدلیں گے پاکستان کے حالات ۔۔۔ ؟ (ن)لیگ نےوزیراعلیٰ سے ملنے والوں کو پارٹی سے نکال دیااورفوجی سربراہوں سے ملنے والے کو ترجمان مقرر کردیاگیا، قوم کی آنکھیں کھول دینےوالی تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ ایک طرف (ن) لیگ اور( م) لیگ نے وزیراعلیٰ سے ملنے والوں کو پارٹی سے نکال دیا،دوسری طرف فوجی سربراہوں سے ملنے والے کو ترجمان مقرر کردیاگیا،کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟۔فیاض الحسن چوہان کااپنے بیان میں کہنا ہے کہ زبیر عمر کو نوازشریف

اور بیگم صفدر اعوان کاترجمان مقرر ہونے پر مبارکباد ، کیا نوازشریف صاحب کابیانیہ اور ان کاعمل بھینگے کی دو آنکھوں کی طرح آپس میں ملتا ہے؟ ۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف ن لیگ اور م لیگ نے وزیراعلیٰ سے ملنے والوں کو پارٹی سے نکال دیا،دوسری طرف فوجی سربراہوں سے ملنے والے زبیر عمر کو ترجمان مقرر کردیاگیا،پاکستانی قوم کو بتائیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟،صوبائی وزیر نے کہاکہ آپ کس منہ سے یہ سیاست کر رہے ہیں؟، نوازشریف اور مریم صاحبہ آپ کی کوئی بات آپس میں نہیں ملتی ،آپ یوٹرن نہیں بلکہ وی ٹرن کے بادشاہ ہیں ۔فیاض چوہان نے کہاکہ زبیر عمر کو پرانی صلاحیتیں استعمال کرکے این آر او حاصل کرنے کیلئے مقرر کیاگیا ہے، زبیرعمر کو ترجمان مقرر کرکے پی ڈی ایم کے اعلامیے کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق نواز شریف کے قریبی ساتھی ناصر بٹ کو لندن میں گرفتار کروانے کی تیاریاں، ایف آئی اے کی جانب سے رہنما ن لیگ کو گرفتار کر کے پاکستان بھجوانے کیلئے انٹرپول کو ریڈ وارنٹ کے لیے خط لکھ دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے پاکستان میں قتل کے مقدمے میں نامزد اور اشتہاری قرار دیے جانے والے ن لیگ کے رہنما ناصر بٹ کو لندن میں گرفتار کروا کر پاکستان واپس لانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے ناصر بٹ کی گرفتاری کیلئے انٹرپول کو ریڈ وارنٹ کے لیے خط لکھ دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ناصربٹ کو قتل کیس میں اشتہاری ہونے پر انٹرپول کے ذریعے واپس لایا جائے گا، ناصربٹ کے خلاف تھانہ صادق آباد میں قتل کامقدمہ درج ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ناصر بٹ کی گرفتاری کیلئے مثبت پیش رفت ہونے کی امید ہے۔ جبکہ دوسری جانب سے نواز شریف کو بھی گرفتار کر کے پاکستان واپس لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔