اسٹیبشلمنٹ کا سیاسی امور میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ! حالات ایسے پیدا کیوں ہوئے کہ نواز شریف کو سینے میں دفن راز سامنے لانا پڑے؟ مزید تلخیوں کی پیشگوئی کر دی گئی

لاہور(نیوز ڈیسک ) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب سیاسی معاملات کا بالکل حصہ نہیں بنے گی،ایسے حالات کیوں پیداہوئے کہ نوازشریف کو یہ باتیں کرنا پڑی، دونوں جانب تلخیاں مزید بڑھ سکتی ہیں، ان تلخیوں کا کم کرنا اسٹیبشلمنٹ ، عدالت اوربیوروکریسی کا کام نہیں ہے، سیاسی اکابرین کو کردار ادا کرنا

چاہیے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے بیان پر ردعمل دیا ، کل اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ ہے، جس میں تقریریں کی جائیں گی اور مزید تلخیاں بڑھیں گی۔ ان تلخیوں کو کم کرنا ہمارے اکابرین کا کام ہے، ان تلخیوں کا کم کرنا اسٹیبشلمنٹ ، عدالت، بیوروکریسی یا پولیس کا کام نہیں ہے۔ان تلخیوں کو کم کرنا سیاسی اکابرین کا کام ہے۔ عمران خان اور اپوزیشن کے درمیان بہت فاصلہ پیدا ہوچکا ہے۔عمران خان اگر چاہتے ہیں ان کو چودھری شجاعت کو ، سراج الحق ساتھ نہیں ہیں اگر یہ شخصیات ہوتی تو درمیانی راستہ ضرور نکالتے۔ اب اسٹیبلشمنٹ تو بالکل سیاسی معاملات میں نہیں آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ کیوں اس طرح کے حالات ہوئے کہ نوازشریف کو یہ باتیں کرنے کی ضرورت پڑی۔نوازشریف ایک حد تک ہی بات کرسکتے ہیں، ایک حد سے آگے نہیں جائیں گے کیونکہ وہ بھی تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں اور وزراء کو اپوزیشن کو ایکسپوز کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو فوج سے مسئلہ کہ وہ ان کی کرپشن پکڑ لیتی ہے، فوج آئینی حدود میں رہ کر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اپوزیشن کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں ہے۔ اپوزیشن کوفوج سے مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان کی کرپشن پکڑ لیتے ہیں۔ اپوزیشن کو یہ مسئلہ بھی ہے کہ ان کو ڈھیل نہیں مل رہی۔ اپوزیشن جماعتیں عوامی نہیں ذاتی ایجنڈے پر کام کررہی ہیں۔ اپوزیشن کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔