بریکنگ نیوز: نیا پاکستان بن گیا ۔۔۔!!! وفاقی حکومت کا الزامات کی زد میں آنیوالے افسران کو فارغ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے مختلف الزامات کی زد میں آنے والے سرکاری افسران کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کرلیا، کرپٹ، نکمے اور نیب زدہ افسران کی نشاندہی اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی۔نجی ٹی وی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ

حکومت نے مختلف الزامات کی زد میں آنے والے سرکاری افسران کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔وفاقی کابینہ کے منظور کردہ رولز 2020 کے تحت کرپشن میں ملوث ملازمین، نیب کے ساتھ پلی بارگین کرنے والے، کارکردگی نہ دکھانے والے اور دو مرتبہ سپر سیڈ کیے جانے والے افسران کو ریٹائر کیا جاسکے گا۔ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن کی بنائی گئی اعلیٰ سطح کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ ڈویژن ہوں گے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، وزارت خزانہ کے نمائندے، وزارت قانون و انصاف کیایڈیشنل ڈرافٹس مین اور ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن کابینہ ڈویژن بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پنجاب میں میدان سجانے کی تیاریاں، مریم نواز نے مسلم لیگ نے کے گڑھ میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا، نواز شریف کی صاحبزادی نے پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کو گوجرانوالہ میں 16 اکتوبر کو جلسے کے انعقاد کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پنجاب میں جلسے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس سلسلے میں مریم نواز کی جانب سے پہلا جلسہ مسلم لیگ ن کے گڑھ گوجرانوالہ میں کیا جائے گا۔ مریم نواز نے پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں جلسہ عام کے انعقاد کی تیاریاں کی جائیں۔ دوسری جانب ن لیگ کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ووٹ کسی اور کے نام ڈالا جاتا ہے، نکلتا کسی اور کے نام سے ہے۔شہبازشریف نے مشکلات کے باوجود پیغام دیا قائد نوازشریف ہیں۔ نوازشریف کی تقریر سےعدلیہ، میڈیا، ن لیگ، عوام کے موقف کو تقویت ملی۔ نوازشریف کی تقریر کے بعد آزادی اظہار ملنے کا کریڈٹ نوازشریف کو جاتا ہے۔ مریم نواز کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ حکومت مخالف تحریک کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ مشاورت سے حکمت عملی طے کی جائے گی۔ حکومت کیخلاف تحریک کیلئے کئی پلان ترتیب دیے جائیں گے۔