You are here
Home > پا کستا ن > اپوزیشن کے ساتھ دھوکہ ہوگیا! اچانک مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمان نے جارحانہ حکمتِ عملی کیوں اپنا لی؟ سب کچھ سامنے آگیا

اپوزیشن کے ساتھ دھوکہ ہوگیا! اچانک مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمان نے جارحانہ حکمتِ عملی کیوں اپنا لی؟ سب کچھ سامنے آگیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) کالم نگار رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ لگتا ہے سب کو احساس ہورہا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔مولانا فضل الرحمن کھلی دھمکیاں دے ر ہے ہیں ‘ دوسری جانب نواز شریف اور مریم نواز نے ایک قدم آگے بڑھ کر مقتدرہ پر حملہ کیا

ہے۔اب یہ جنگ اوپن ہوگئی ہے۔ ہر شعبے میں کچھ قواعد ہوتے ہیں جن کا سب احترام کرتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے کتنے ہی دشمن کیوں نہ ہوں وہ بعض راز کبھی باہر نہیں نکالتے۔پاکستان میں سیاستدانوں اورحساس اداروں کے سربراہوں اور نمائندوں کے درمیان خفیہ ملاقاتیں بہت پرانی ہیں۔ انہی ملاقاتوں میں ملک کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ ان ملاقاتوں کو آن دی ریکارڈ تسلیم کیا جاتا ہے نہ ہی خفیہ ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے لائی جاتی ہیں۔اپنے کالم میں رؤف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ انہیں پتہ ہے کہ جب تک موجودہ سسٹم چل رہا ہے ان کی جگہ نہیں بنتی‘ لہٰذا اگر کوئی رعایت نہیں مل سکتی تو پھر بہتر ہے کہ ہیرو بنا جائے؟ نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے قابلِ بھروسہ محمد زبیر کو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے پاس دو بار بھیج کر جان لیا کہ مزید رعایتیں نہیں ملیں گی؟ مریم نواز لندن نہیں جاسکتیں اور نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں ہوگی۔واقفِ حال کہتے ہیں کہ نواز شریف نے جو سب سے بڑی قربانی دی وہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کا ووٹ تھا۔ ان پر تنقید بھی ہوئی ‘ اس لیے کئی ماہ تک مریم نواز کا سمجھدار ٹوئیٹر اکاؤنٹ بھی خاموش رہا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ اچانک نواز لیگ کے بجھتے چراغوں میں جیسے نیا تیل بھر گیا ہو۔ سلمان شہباز نے لندن سے اپنے والد کے قہقہے لگاتے تصویر شیئر کی جس پر لکھا تھا‘ گیم چینجر۔خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کی جس میں انہوں نے حکومت کو بتایا کہ الیکشن ہوں گے اور ان کی شرائط پر ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس وقت کہا جارہا تھا جب نواز شریف لندن جارہے تھے۔ اچانک نواز لیگ کے سب لوگ جو نیب کی قید میں تھے ان کی ضمانتیں ہونا شروع ہوگئیں اور نواز شریف کی جماعت میں جان پڑ گئی۔ اب اگلا ہدف یہ تھا کہ مریم نواز کو لندن بھیجا جائے اور یہیں پر کھیل خراب ہوا۔عمران خان صاحب کو لگا کہ ان سے ہاتھ ہوگیا ہے‘ لہٰذا انہوں نے اپنا پائوں درمیان میں رکھ دیا ۔


Top