وفاقی حکومت کا بڑا کھڑاک۔!! الزامات کی زد میں آنیوالے سرکاری افسران کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے مختلف الزامات کی زد میں آنے والے سرکاری افسران کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کرلیا جب کہ کرپٹ، نکمے اور نیب زدہ افسران کی نشاندہی اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے فیصلے کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق

وفاقی کابینہ کے منظور کردہ رولز 2020 کے تحت کرپشن میں ملوث ملازمین، نیب کے ساتھ پلی بارگین کرنے والے، کارکردگی نہ دکھانے والے اور دو مرتبہ سپر سیڈ کیے جانے والے افسران کو ریٹائر کیا جاسکے گا۔ ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن کی بنائی گئی اعلیٰ سطح کمیٹی کے سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ ڈویژن ہوں گے جب کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، وزارت خزانہ کے نمائندے، وزارت قانون و انصاف کےایڈیشنل ڈرافٹس مین اور ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن کابینہ ڈویژن بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے گریڈ1 سے 16 تک کے ملازمین پراسمارٹ فون دفاتر میں لانے پر پابندی لگادی ہے۔ سرکاری افسروں کے ماتحت کام کرنے والے ملازمین اسمارٹ فون استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری مراسلے کے مطابق پابندی سیکیورٹی کومدنظررکھتے ہوئے لگائی گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مراسلے میں کابینہ ڈویژن کےخط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ مراسلے کے مطابق وزارتوں اور ماتحت اداروں میں بھی ایسا سرکلر جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت نے سرکاری افسران اور ان کے ماتحت اہلکاروں کو ذرائع ابلاغ سے رابطہ کرنے سے منع کر دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اپنے افسران و اہلکاروں کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی معلومات یا دستاویزات ذرائع ابلاغ کو فراہم نہیں کریں گے۔