You are here
Home > پا کستا ن > نرسری تا آٹھویں کلاسز کے لیے سکول کب تک کھول دیئے جائیں گے؟ بالاخر حکومت نے حتمی اعلان کر دیا

نرسری تا آٹھویں کلاسز کے لیے سکول کب تک کھول دیئے جائیں گے؟ بالاخر حکومت نے حتمی اعلان کر دیا

کراچی(نیوز ڈیسک ) سندھ حکومت نے 30 ستمبر سے قبل ہی نرسری تا آٹھویں جماعت تک سکول کھولنے کا اعلان کردیا ہے، وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ 28 ستمبر کونرسری تا آٹھویں جماعت سکول کھول دیں گے، ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف سخت کاروائی کریں گے، کوشش کریں والدین بچوں کو خود سکول

چھوڑیں اور خود لے کر آئیں۔انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اٹھائیس ستمبر کو نرسری تا آٹھویں جماعت سکول کھول دیں گے۔ سکولوں میں طلباء کو 2 شفٹوں میں بلانے کی تجویز دی ہے، سرکاری اور نجی سکولوں کو چاہیے غلطیاں درست کریں۔ دو وجوہات کی بناء پر سکولوں کو سیل کیا گیا، کچھ سکولوں کو کورونا کیسز اور چھوٹے بچوں کو بلانے پر سیل کیا گیا ہے۔اگر کسی سکول میں کمرے زیادہ ہیں تو الگ الگ کمروں میں کلاسز ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ سکول کھولنے کے بعد ایس اوپیز پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف سخت کاروائی کریں گے۔والدین سکولوں میں خود جاکر ایس اوپیز کو چیک کریں۔کسی بھی سکول میں کورونا کیس آنے پر سکول سیل کردیا گیا ہے۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ چند دنوں میں ایم کیوایم کی جلسی سے کئی گنا بڑا پروگرام کرکے دکھائیں گے۔ دوسری جانب وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کرونا کو روکنا بہت بڑا چیلنج تھا،کورونا کے جب 60 کیسز پاکستان میں ریکارڈ ہوئے تب ہم نے لاک ڈائون کرنے کا فیصلہ کیا،کراچی ایئرپورٹ پر اسکریننگ کی بہت اچھی سہولیات فراہم کی گئیں۔13 سے 14 ہزار زائرین سکھر سے آئے جن میں سے 75 فیصد مثبت آئے۔ ہمارے پاس بہت سادہ فارمولا تھاہم نے عوام کو ٹیسٹ، کورینٹین، اور آئسولیٹ کیا۔ جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے تب سے ہم مسلسل اقدامات کر رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو آئی بی اے سٹی کیمپس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ رورل ایریاز میں اور متاثرہ علاقوں میں عوام تک راشن تقسیم کرنا ایک بڑا مسئلہ تھاہماری کوشش رہی ہے کہ کورنا پھیلے نہیں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا بڑا چیلنج تھا۔نہوں نے کہا کہ کورنا وبا کے دوران حکومت نے ضرورت مند لوگوں کو راشن گھروں میں پہنچایا۔ لاک ڈائون کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سپورٹ رہی۔ وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران ضرورت مند لوگوں کی مالی مدد کی۔ وائرس کا لاعلاج ہونا اور ویکسین نہ ہونا سب سے زیادہ پریشانی والی بات تھی اس وبائی صورتحال میں ہم ہر دن سیکھ رہے ہیں۔ایس او پیز پر عملدرآمد کروانا بہت بڑا چیلنج تھا۔


Top