تما م شکوے دور ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم معاملہ طے پا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی احتساب بیورو کے دوسرے ترمیمی قانون 2019 پر معاملات طے پاگئے۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطابق حکومت نے نیب کادوسرا ترمیمی آرڈیننس اپوزیشن کے تعاون سے قانون کی صورت میں لانے کافیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ بل کے مطابق نیب سیاستدانوں، سرکاری افسران سے محصولات کے معاملات کی

تحقیقات بھی نہیں کرسکے گا۔مجوزہ بل کے مطابق نیب کا دائرہ کار وفاقی و صوبائی ٹیکس، لیویز، محصولات کے معاملات پر نہیں ہوگا، محصولات پر زیر التوا انکوائریاں، تفتیش متعلقہ اداروں اور حکام کو منتقل ہوجائیں گی۔مجوزہ بل کے تحت احتساب عدالتوں سے متعلقہ مقدمات فوجداری عدالتوں کو منتقل ہوجائیں گے، کسی حکومتی منصوبے یا اسکیم میں ضابطہ کار کی خامیوں پر سیاستدان یا سرکاری افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔بل کے تحت سیاست دان یا سرکاری افسر کیخلاف حکومتی منصوبے یا سکیم سے مالیاتی فائدہ حاصل کرنے پر ہی کارروائی ہو سکے گی. جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطاب مسلم لیگ (ن ) کے رہنماء اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں کھانے کے دوران سیاست پر بھی بات ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات طویل تھی جس میں نوازشریف اور مریم نواز کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔محمد زبیر نے بتایا کہ مریم نواز اور نوازشریف کے حوالے سے جب گفتگو کی تو آرمی چیف نے کہا قانونی معاملات عدالت کو دیکھنے چاہئیں۔ ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس قسم کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی ہیں، اس لیے میں نے کسی سے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ محمد زبیر نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں۔ ان سے اسد عمر کے بیٹے کے ولیمے میں ملاقات ہوئی تو آرمی چیف نے کہا اسلام آبادآئیں ملاقات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں نوازشریف اور مریم نواز سے متعلق گفتگو ہوئی مگر کوئی ریلیف نہیں مانگا۔ اس طرح کی مٹینگز میں سیاسی بات چیت بھی ہوجاتی ہے‘۔ محمد زبیر نے بتایا کہ دوسری ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔