بس کردو یار اور کتنا ذلیل کروا ؤگے ۔۔۔۔نواز شریف نے ن لیگی رہنماؤں پر عسکری قیادت سے خفیہ ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی

لندن(ویب ڈیسک )سابق وزیراعظم اورپاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو عسکری قیادت کے ساتھ خفیہ ملاقات کرنے سے روک دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ایک ٹویٹ میں میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ حالیہ واقعات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا


ہے کہ کس طرح بعض ملاقاتیں سات پردوں میں چھپی رہتی اور کس طرح بعض کی تشہیر کرکے مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کھیل اب بند ہوجانا چاہئے، آج میں اپنی جماعت کو ہدایات جاری کررہا ہوں کہ آئین پاکستان کے تقاضوں اور خودمسلح افواج کواپنے حلف کی پاسداری یاد کرانے کے لیے آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن،انفرادی،جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔نواز شریف نے مزید کہا کہ قومی دفاع اور آئینی تقاضوں کے لیے ضروری ہوا تو جماعتی قیادت کی منظوری کے ساتھ ایسی ہر ملاقات اعلانیہ ہوگی اور اسے خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے بتا یا تھا کہ محمد زبیر آرمی چیف سے دو ملاقاتیں کر چکے ہیں جو کہ ان کی درخواست پر کی گئی تھیں ۔انہوں نے بتا یا تھا کہ ملاقاتیں مریم نواز اور نواز شریف سے متعلق تھیں۔ واضح رہے مسلم لیگ (ن ) کے رہنماء اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں کھانے کے دوران سیاست پر بھی بات ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات طویل تھی جس میں نوازشریف اور مریم نواز کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔محمد زبیر نے بتایا کہ مریم نواز اور نوازشریف کے حوالے سے جب گفتگو کی تو آرمی چیف نے کہا قانونی معاملات عدالت کو دیکھنے چاہئیں۔ ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس قسم کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی ہیں، اس لیے میں نے کسی سے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ محمد زبیر نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں۔ ان سے اسد عمر کے بیٹے کے ولیمے میں ملاقات ہوئی تو آرمی چیف نے کہا اسلام آبادآئیں ملاقات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں نوازشریف اور مریم نواز سے متعلق گفتگو ہوئی مگر کوئی ریلیف نہیں مانگا۔ اس طرح کی مٹینگز میں سیاسی بات چیت بھی ہوجاتی ہے‘۔ محمد زبیر نے بتایا کہ دوسری ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔