You are here
Home > پا کستا ن > بی بی رانی اگر وزیراعظم بننا چاہتی ہوتو یہ فارمولا لگاؤ۔۔۔۔ غریدہ فاروقی کا مریم نواز کو حیران کُن مشورہ

بی بی رانی اگر وزیراعظم بننا چاہتی ہوتو یہ فارمولا لگاؤ۔۔۔۔ غریدہ فاروقی کا مریم نواز کو حیران کُن مشورہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تجزیہ نگارغریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف اگر اس ملک میں وزیراعظم بننا چاہتی ہیں تو ان کو اپنے الفاظ پر معذرت کرنی چاہیے، مریم نواز کے ردعمل پر میں خود حیران تھی، میرا ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ ہر طرح کے سوال اور تنقید کو ویلکم کرتی ہیں۔

کیونکہ جب آپ سیاستدان ہوتے ہیں تو آپ کو ہر طرح کی تنقید برداشت کرنی چاہئے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہی کہ آپ کو گالم گلوچ اور اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں برداشت کرنی چاہئیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے غریدہ فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کے کہنے پر ہم لوگ قومی اسمبلی میں خواتین صحافیوں پر حملوں کی درخواست لے کر گئے، میں واحد خاتون تھی جو نام لے لے کر خواتین سیاستدانوں کے حق میں بولی۔ مریم نواز کے ردعمل پر تمام خواتین صحافیوں اور مرد صحافیوں نے میرے سے اظہار یکجہتی کیا۔ سب یہی کہہ رہے ہیں آخر مریم نواز کو ہوا کیا ہے۔ یہ تمام چیزیں مریم نواز کو دیکھنی پڑیں گی، اس سے میں ہی نہیں بلکہ تمام خواتین صحافی متاثر ہوئی ہیں۔ جو لیڈرز اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں تو ان کےفالورز ان سے دس ہاتھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یاد رہے عسکری قیادت سے پارلیمانی لیڈروں کی ملاقات سے متعلق بیان پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور صحافی غریدہ فاروقی میں لفظی جھڑپ ہوئی تھی ۔ غریدہ فاروقی نے مریم نواز کے بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر لکھا کہ مریم نواز صاحبہ نے کُھل کر شہباز شریف صاحب و دیگر کے آئی ایس آئی میس میں ملاقات کیلئے جانے کی مخالفت کر دی ، ن لیگ آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ ، جبکہ احسن اقبال صاحب نے کل ہی ہمارے پروگرام میں کہا کہ اِسمیں کوئی حرج نہیں پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ زیادہ چالاک بننے کی کوشش مت کرو ، میں نے ایک اصولی بیان دیا جو کہ ہمارے آئین کے عین مطابق ہے ، اس کو ایسا مت ظاہر کرو کہ یہ ہماری جماعت کے صدر یا کسی خاص شخصیت کے خلاف ہے۔یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی ، سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں ہی حل ہونا چاہیئے اور انہیں سیاسی قیادت کو ہی حل کرنے دیں ۔


Top