You are here
Home > پا کستا ن > مولانا فضل الرحمان بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے ، کیا گفتگو ہوئی ؟تفصیلات آ گئیں

مولانا فضل الرحمان بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے ، کیا گفتگو ہوئی ؟تفصیلات آ گئیں

کراچی(ویب ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات ،ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال۔تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرادری کے درمیان بلاول ہاؤس کراچی میں تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ،اس موقع پر رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر اور جے یو آئی رہنما راشد خالد محمود سومرو

بھی موجود تھے، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی حکومت کے خلاف تحریک کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی ۔اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اداروں کا پہلے بھی احترام کرتے تھے اور اب بھی احترام کرتے ہیں، ہمیں اداروں سے شکایات ہیں جن کا ازالہ چاہتے ہیں تاہم منفی تاثر مت دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انڈیا ہماری حکومت مخالف تحریک سے خوش نہیں بلکہ پریشان ہے کیوںکہ ہم مودی کے پارٹنر اور کشمیر کے سوداگر کی حکومت گراکر یہ سودا کینسل کرانا چاہتے ہیں، اگر جنوری تک حکومت کو ہٹایا نہ گیا تو اسلام آباد میں 50 لاکھ لوگ اکٹھے کر کے عوامی طاقت سے ملک و عوام دشمن حکومت کو بوریا بستر گول کرنے پر مجبور کر دینگے۔انہوں نے کہا کہ مذموم عزائم کے تحت ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے یہ استعماری قوتوں کا فارمولا لڑاؤ اور حکومت کرو پر عمل پیرا ہیں جسے ہم کامیاب ہونے نہیں دینگے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق قومی احتساب بیورو نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں مولانا فضل الرحمان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے انہیں آئندہ ہفتے یکم اکتوبر کو طلب کرلیا۔ذرائع کے مطابق نیب نے مولانا فضل الرحمان کی طلبی کا نوٹس بھی جاری کردیا ہے۔دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد نے مولانا فضل الرحمان کی طبی پر نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’حکومت اپنی بقا کے لیے نیب کو استعمال کررہی ہے، نوٹس اس بات کی شہادت ہے کہ فضل الرحمان کی آل پارٹیز کانفرنس کی تقریر نشانے پر لگی، اپوزیشن رفتارکوتیزکرتی ہے تو نیب بھی حرکت میں آجاتی ہے۔یاد رہے کہ چند روز قبل نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے واضح کیا تھا کہ احتساب کا عمل تمام سیاسی جماعتوں، گروپ اور افراد کے لیے ہے کیونکہ ہم احتساب کی پالیسی پر عمل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ’ہماری دوستی ریاست پاکستان کے ساتھ ہے اور ادارہ کرپشن کر کے لوٹے ہوئے پیسے کی واپسی کے لیے اقدامات کررہا ہے‘۔


Top