پتہ تم لوگوں کو کچھ ہے نہیں،اپنی زبان بند رکھو ۔۔۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس، وزیراعظم عمران خان نے سب کو ٹوک دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء کو حساس مذہبی معاملات پر بات کرنے سے روک دیا، انہوں نے کہا کہ وزیر کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی، کوئی وزیر فضول بات اور غیرضروری بیان نہ دے ، جنسی زیادتی کے مجرمان کو سخت سزائیں دینے کا قانون بنائیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان

کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوااجلاس میں ملک کی سیاسی، معاشی اور قومی سلامتی کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں 14نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا اور متعدد نکات منظور کرلیے گئے۔اجلاس میں وزیراعظم نے وفاقی وزراء کو حساس مذہبی معاملات پر بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ وزیر کی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی، کوئی وزیر فضول بات اور غیرضروری بیان نہ دے۔اجلاس میں اسد عمر نے شیریں مزاری کے بعض بیانات پر اعتراض کیا، انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ شیریں مزاری بولتی ہیں۔اجلاس میں انسداد جنسی زیادتی، پراسیکیوشن میں بہتری کے بل، خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق بل کے مسودے پربریفنگ دی گئی۔ بل جلد کابینہ کمیٹی برائے قانونی سازی میں لایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خواتین اوربچوں سے جنسی زیادتی کے ملزمان کو سزائیں دیں گے۔ اسی طرح ایس ای سی پی ڈیٹا لیک معاملے پر اظہار تشویش کیا گیا۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا کہ جنگ گروپ کے لوگ بھی ڈیٹا لیکس میں ملوث ہیں۔کچھ حکومتی ارکان بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمیں پس پردہ ملوث کرداروں کو سامنے لانا ہوگا۔ کابینہ ارکان نے وزیراعظم کو ڈیٹا لیک انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا مشورہ دیا، جس پر وزیراعظم نے عندیہ دیا کہ ڈیٹا لیک کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، رپورٹ پبلک کردی جائے گی۔کابینہ اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی۔وفاقی کابینہ نے اپوزیشن کے بیانیئے کو مستر د کردیا ہے۔ کابینہ ارکان نے کہا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس دراصل ابو بچاؤ مہم ہے۔وزیراعظم عمران خان کہا کہ اپوزیشن کی اے پی سی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔اے پی سی کے عزائم سے پوری قوم آگاہ ہے۔کابینہ اجلاس میں ریپ کیسز کے مجرمان کیلئے سخت قوانین کا جائزہ لیا گیا۔مختلف ادویات کی ریٹیل قیمتوں خی منظوری دے دی ہے۔کینٹونمنٹس ایریا کی درجہ بندی، کنٹونمٹنس آئین کی منظوری دی گئی۔ ماڈل جیل کی منظوری کیلئے اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کو توانائی شعبے میں اصلاحات پربریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے 9 ستمبر کے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی۔ وفاقی کابینہ اجلاس میں اسلام آباد میں بڑھتے جرائم پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے چیئرمین اوگرا کی تعیناتی کیلئے ازسرنو اشتہار دینے کا فیصلہ کیا۔