انٹر میڈیٹ کے نتائج کا اعلان۔۔!! فرسٹ ائیر کے طلباء کی قسمت کا انوکھا فیصلہ کر دیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک) صوبہ پنجاب کے تعلیمی بورڈرز کی طرف سے انٹر میڈیٹ نتائج کا اعلان کردیا گیا ، لاہور بورڈ کے پارٹ ٹو میں کامیابی کا تناسب 99 اعشاریہ 43 فیصد رہا ، جبکہ فرسٹ ایئر کے تمام بچوں کو پاس کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز آف

انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا۔اس حوالے سے تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ لاہور بورڈ میں پہلی دفعہ کامیابی کا تناسب 99.43 فیصد رہا ، ایک لاکھ 64 ہزار 906 طلبہ نے پیرز دیئے ، 1 لاکھ 63 ہزار 969 بچے پاس ہوئے۔ 26 ہزار 374 بچے سپیشل مضامین کے ساتھ امتحان میں شامل ہوئے ۔ چیئرمین لاہور بورڈ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سےتعلیمی معاملات بہت سے مسائل کا شکار تھے ، پروموشن پالیسی کے تحت فرسٹ ائیر کے تمام بچوں کو پاس کیا گیا ، جبکہ سیکنڈ ائیر کے بچوں کو فرسٹ ائیر کے نتیجے کی بنیاد پر پاس کیا گیا ، سیکنڈ ائیر کے بچوں کو 3 فیصد اضافی نمبر بھی دیئے گئے ، پریکٹیکلز میں 50 فیصد نمبر سب کو دیئے ، عملی امتحان کے باقی 50 فیصد نمبرز متعلقہ پیپرز کے نمبرز دیکھ کر دیئے گئے ، امتحان میں 880 یا اس سے زائد نمبر لینے والوں کا گریڈ اے پلس ہے ، 770 سے 879 نمبر لینے والے طلبہ کا گریڈ اے ہو گا ، 660 سے 769 تک نمبر لینے والوں کا گریڈ بی ہو گا ، 440 سے 549 نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کا گریڈ ڈی ہو گا ، 440 سے کم نمبر لینے والوں کا گریڈ ای کہلائے گا ۔فرسٹ ایئر کے تمام بچوں کو پاس کیا گیا ، جن مین سے سیکنڈ ایئر کے بچوں کو 3 فیصد اضافی نمبرز بھی دیے گئے ہیں ، جبکہ پریکٹیلکز میں تمام طالبعلوں کو 50 فیصد نمبرز دیے گئے ہیں ، طلباء نتائج اپنے تعلیمی بورڈز ویب سائٹ سے بھی معلوم کرسکیں گے ۔ واضح رہے کہ چند روز قبل پنجاب کے تعلیمی بورڈ ز کی طرف سے میٹرک کے نتائج کا اعلان کیا گیا تھا، رزلٹ بچوں کی کارکردگی کی بنیاد پر جاری کیا گیا، رواں سال پوزیشنز نہیں بلکہ گریڈنگ جاری کی گئی ہے،میٹرک کا رزلٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا گیا ہے۔چیئرمین لاہوربورڈ پروفیسر ریاض ہاشمی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ میٹرک کا امتحان دینے والے سوا 2 لاکھ طلباء کے نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث حالات انتہائی نازک تھے ، لیکن رزلٹ بچوں کی کارکردگی کی بنیاد پر جاری کیا گیا ، پہلے نمبروں کا سسٹم ہوتا تھا، جس میں پریکٹیکل میں نمبرز لگوا لیے جاتے تھے اور اس طرح نمبروں کے سسٹم میں حق دار پیچھے رہ جاتے ہیں ، رواں سال پوزیشنز نہیں بلکہ گریڈنگ جاری کی گئی ۔