You are here
Home > پا کستا ن > اے پی سی میں تقاریر پر بھارت میں کس طرح خوشیاں منائی جا رہی ہیں ؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی پھٹ پڑے

اے پی سی میں تقاریر پر بھارت میں کس طرح خوشیاں منائی جا رہی ہیں ؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی پھٹ پڑے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے اجلاس سے مجھے مایوسی کا پیغام ملا ہے، اپوزیشن کا اجلاس تضاد کا مجموعہ ہے، اے پی سی پر شادیانے بھارت میں بج رہے ہیں۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے

پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنا خون دیا، کل ہر اس ادارے کو نشانہ بنایا گیا جس سے وہ خائف ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تضادات کا اندازہ لگائیں لاک ڈاؤن پر تنقید کرنے والے جنوری میں لانگ مارچ کررہے ہیں، کمرے کے باہر اور اندر کیا کہا جاتا ہے یہ بھی تضاد قوم کے سامنے ہے، اپوزیشن کی مراد اور منزل تھی کہ نیب کو لپیٹ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو واضح ہوگیا کہ عمران خان تیار نہیں تو حکمت عملی پر غور کرنا شروع کیا، اپوزیشن مکمل قائل ہوچکی ہے اب انہیں این آر او نہیں ملے گا، اپوزیشن جان چکی ہے کہ نیب قوانین میں ان کی مرضی کی ترامیم نہیں ہوگی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اپنے مقدمات کو جتنا لٹکا سکتے تھے کرلیا، اب یہ منطقی انجام کے قریب ہیں، اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا، وہ اپنے منطقی انجام کے قریب ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کو پتا چل گیا ہے نیب قوانین میں رعایت نہیں ملے گی، کل کی کانفرنس کا مقصد نیب کو لپیٹنا تھا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان پر تنقید ہوتی تھی اب تعریف کی جارہی ہے، کل اپوزیشن سی پیک کے لیے فکر مند دکھائی دی، بتانا چاہتا ہوں کہ سی پیک کے جاری کام پر چین مطمئن ہے۔۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان پر تنقید ہوتی تھی اب تعریف کی جارہی ہے، کل اپوزیشن سی پیک کے لیے فکر مند دکھائی دی، بتانا چاہتا ہوں کہ سی پیک کے جاری کام پر چین مطمئن ہے۔


Top