نشاندہی ہوگئی، سرکاری محکمے کا اہم ملازم ہی ملوث نکلا

لاہور (نیوز ڈیسک ) سانحہ رنگ روڈ، مرکزی ملزم عابد کی تصویر اور معلومات لیک کرنے والے شخص کی نشاندہی کرلی گئی ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق سانحہ رنگ روڈ، مرکزی ملزم عابد کی تصویر اوراس کے بارے میں دیگر معلومات لیک ہونے کے معاملے کی ابتدائی رپورٹ ایوان وزیراعلیٰ کو موصول ہوگئی ۔

جس میں بتایا گیا ہے کہ رپورٹ فرانزک ڈیپارٹمنٹ سے لیک ہوئی ، رپورٹ لیک کرنے والے شخص کی بھی نشاندہی کرلی گئی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو حتمی رپورٹ ان کے دورہ جنوبی پنجاب سے واپسی پرپیش کی جائے گی ۔میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کابینہ نے ملزم عابد کی تصویر لیک ہونے پرشدیداحتجاج کیاتھا ۔ دوسری طرف معروف تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ مرکزی ملزم عابد کو پہلے ہی اطلاع مل جاتی ہے کہ پولیس کب اور کہاں چھاپے مارنے والی ہے ۔نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملزم عابد جہاں کہیں بھی ہے اسے چھاپے پڑنے سے پہلے ہی اطلاع پہنچ جاتی ہے کہ پولیس کی طرف سے کہاں چھاپہ پڑنے والا ہے ، اور یہ کیا بات ہوئی اور یہ کون سا قانون ہے کہ اس کی اہلیہ کو پکڑ لیا ہے ، آج اس معاملے کو 8 دن ہو گئے ہیں اس لیے اس سارے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے اور یہ سب دھڑے بندی کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔دوسری جانب ملزم عابد کی اہلیہ بشریٰ نے پولیس کو ابتدائی بیان دیدیا۔نجی ٹی وی کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ مرکزی ملزم عابدعلی کی اہلیہ بشری نے پولیس کو ابتدائی بیان ریکارڈ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی عابد کیساتھ دوسری شادی ہے، عابد کئی روز تک گھر نہیں آتا تھا اور جب میں پوچھتی تھی تو وہ مجھے مارتا ۔بشریٰ نے بتایا کہ موٹر وے واقعے کے بعد عابد گھرآیا اور کا فی پریشان دکھائی دے

رہا تھا، مگر مجھے کچھ نہیں بتایا تاہم جب عابد کی شناخت ہو گئی تووہ فرار ہوگیا۔ میں بھی بچی کو گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر آ گئی،مجھے عابد کے بارے میں نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے پولیس کو راجہ جنگ میں موٹر وے کیس میں ملوث مرکزی ملزم عابد ملہی کی آمد کی اطلاع ملی تھی۔ ملزم آیا لیکن شبہ ہوتے ہی کھیتوں میں فرار ہو گیا۔دنیا نیوز ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کی نااہلی کی وجہ سے موٹر وے کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی تیسری مرتبہ پھر ہاتھ سے نکل گیا۔ پولیس کو گزشتہ رات ملزم عابد کے راجہ جنگ گاؤں میں آنے کی اطلاع ملی تو اہلکار اس کے رشتہ دار کے گھر گھات لگا کر بیٹھ گئے۔لاہور پولیس کو آبائی گاؤں راجہ جنگ ہزارہ روڈ قصور میں عابد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ حویلی آف شیخ شمس میں عابد علی کی بہن اور بہنوئی کام کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عابد گزشتہ رات پونے آٹھ بجے مذکورہ حویلی میں بہن کے پاس پر پہنچا۔مبینہ طور پر پولیس کے صرف 4 اہلکار راجہ جنگ کے گھر میں موجود تھے۔ ملزم عابد کو پولیس کی موجودگی کا شک ہوا تو فوراً فرار ہو گیا۔ملزم عابد ملہی کے فرار ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری 5 گھنٹے تک سرچ آپریشن کرتی رہی لیکن ملزم ہاتھ نہ آیا۔ادھر ایف آئی اے نے سانحہ موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور پولیس نے موٹروے پر خاتون کیساتھ ہونیوالے ظلم کے مرکزی ملزم عابد علی کے بیرون ملک فرار کے خدشے کے پیش نظر ایف آئی اے کو سفارش کی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے عابد علی کا نام بلیک لسٹ میں شا مل کرلیا۔ایف آئی اے نے ملزم کے کوائف ملک بھر کے ایئرپورٹس اور بارڈر سکیورٹی چیک پوائنٹس پر ارسال کردئیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کے حوالے سے کسی جگہ بھی اطلا ع ملے تو فوری طور پر ہیڈ کواٹر اور لاہور پولیس کو آگاہ کیا جائے۔واضح رہے سانحہ گجر پورہ کے 9روز بعد بھی مرکزی ملزم عابد علی حراست میں نہ آ سکا۔ تفتیش کار ملزم کی گرفتاری کیلئے دوسرے شہروں میں بھی چھاپے مار رہے ہیں لیکن تاحال سفاک ملزم گرفت میں نہیں آسکا۔