عمران خان کی حکومت کسی بھی وقت گِر سکتی ہے، مگر کیوں؟ تمام سیاسی جماعتوں سمیت پاکستانیوں کو پیشگی آگاہ کر دیا گیا

لاہور(نیوز ڈیسک) عمران خان نے نہ حکومت بنانے میں کمال کیا نہ ہی گرانے سے بچا سکتے ہیں کیونکہ حکومتی نااہلی اور نالائقیوں سے وزیراعظم کی مشکلا ت بڑھتی جا رہی ہیں ، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کیا ۔ نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے، ان میں اندرونی اختلافات حد سے بڑھتے جا رہے ہیں ، ن لیگ حکومت میں آنے کا چانس بھی نہیں چھوڑنا چاہتی اور نہ حکومت گرانا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن کے پاس حکومت گرانے کے لیے کچھ ہے بھی نہیں ، پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت اور احتساب سے بچنا چاہتی ہے تو مسلم لیگ ن اپنا پیسہ بچانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ فضل الرحمان صرف حکومتی کمیٹیوں میں حصہ لینا چاہتے ہیں ۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں 20 ستمبر کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے ابھی تک واضح لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکیں اور حزب مخالف کی دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اے پی سی کے موقع پر کسی بھی قسم کے تحریری معاہدے سے انکار کر دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اے پی سی کے موقع پر جو قرار دادیں منظور ہوں انہی پر دستخط کو معاہدہ سمجھا جائے ۔ذرائع کے مطابق حزب مخالف کی چھوٹی جماعتیں بشمور جے یو آئی (ف)کا موقف ہے کہ اے پی سی میں دو ٹوک ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ کیونکہ یہ حکومت جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئی اس وجہ سے تمام اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں اس سے حکومت پر دبائو بڑھے گا اور ان کے سینکڑوں نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرانا بڑا چیلنج ہوگا لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اسے ماننے کو تیار نہیں اور ان کا موقف ہے کہ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لئے رابطہ مہم شروع کیا جائے اور اس کے لئے احتجاج اور جلسے جلوسوں کا شیڈول مرتب کر کے اے پی میں اس کا اعلان کر دیا جائے ۔حکومت کے خلاف دو سے تین قرار دادیں منظور کی جائیں لیکن تحریری طور پر دونوں بڑی جماعتیں کوئی معاہدہ کرنے کو تیار نہیں جس کا مطالبہ مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا تھا البتہ متفقہ قرار داد لانے کے حوالے سے رہبر کمیٹی کا مشاورت کا عمل جاری ہے ۔