You are here
Home > پا کستا ن > گیس کی لوڈشیڈنگ۔۔۔!!! تاجر سٹپٹا کر رہ گئے

گیس کی لوڈشیڈنگ۔۔۔!!! تاجر سٹپٹا کر رہ گئے

کراچی(ویب ڈیسک) صنعتی علاقوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث صنعتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے تاجر برادری کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے صنعتی علاقوں میں بجلی کے بعد گیس کی لوڈشیڈنگ نے بھی تاجروں کا جینا دوبھر کردیا ہے، گیس کی کمی سے برآمدی یونٹس کی پیدا وار متاثر

ہورہی ہیں، برآمدی آرڈر کینسل ہونے کا خدشہ ہے۔تاجر رہنماوں کا کہنا ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ سائٹ، کورنگی، نیوکراچی، ایف بی ایریا، سائٹ ،نوری آباد ،لانڈھی میں جاری ہے۔صدر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری صنعتی علاقوں میں گیس کی کمی کے خلاف مسلسل سراپا احتجاج ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔تاجروں کی مشکلات و پریشانی دیکھتے ہوئے وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ نے گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ پر شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کا کراچی کی عوام سے سلوک دشمنوں والا ہے، ہر طبقے کے افراد اس سے متاثر ہورہے ہیں۔امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ سردیاں شروع ہونے سے قبل گیس کی لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالاہے، وفاق نے کے الیکٹرک کو اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی چھوٹ دے رکھی ہے۔دوسری جانب اورنگی ٹاون مومن آباد میں گیس بحران پر عوام سراپا احتجاج ہی، مشتعل شہریوں نے سوئی سدرن کمپنی کی گاڑی کو گھیر لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ صبح سے علاقے میں گیس نہیں ہے کھانا کیسے پکائیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتعل شہریوں کی سوئی سدرن کمپنی کی گاڑی کو کافی نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ جتنا کام اپوزیشن نے فیٹف کیلئے کیا ہے اس حکومت نے نہیں کیا،ان کےبل میں ایسی ایسی خامیاں تھیں اگرمیں بیان کروں تو ان کےپاس چھپنےکےلئےجگہ نہیں رہے گی،اپوزیشن کی اے پی سی اشتعال انگیز نہیں بلکہ معنی خیز اور نتیجہ خیز ہوگی ،ہم آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جلسے جلوس کریں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قائد حزب اختلاف تک کو بولنے نہیں دیا گیا،یہ حکومت نہ بات سمجھتی ہے اور نہ ہی کوئی بات سننے کو تیار ہے، ہم پارلیمنٹ میں موجود تھے،قائد حزب اختلاف تک کو بولنے کیوں نہیں دیا گیا؟۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کمرے میں بیٹھ کر مسائل کا حل نکالاجاتا ہے، مجعموں میں باتیں نہیں کی جاتیں، ہمیں سب حقائق کا پتہ ہے، حکومت غلط باتیں پبلک میں لاکر جھوٹی پوائنٹ سکورننگ نہ کرے، ان کو ایسی باتوں سے شرم آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جتنا کام اپوزیشن نے فیٹف کیلئے کیا ہے اس حکومت نے نہیں کیا، ان کے بل میں ایسی ایسی خامیاں تھیں اگر میں بیان کروں تو ان کے پاس چھپنے کے لئے جگہ نہیں رہے گی، اے پی سی معنی خیز اور نتیجہ خیز ہوگی، اشتعال انگیز نہیں ہوگی لیکن اپوزیشن اسمبلی میں بولے بھی تو اسے اشتعال سمجھتا جاتا ہے،ہم آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جلسے جلوس کریں گے۔


Top