You are here
Home > پا کستا ن > ریسکیو 1122 میں بڑے پیمانے پربدعنوانی کےانکشاف نے تہلکہ مچا دیا

ریسکیو 1122 میں بڑے پیمانے پربدعنوانی کےانکشاف نے تہلکہ مچا دیا

قیصر کھوکھر(ویب ڈیسک) ریسکیو 1122 میں بڑے پیمانے پر مالی بےضابطگیوں کےانکشاف، افسران کی لاپرواہی نے خزانے کا کروڑ وں روپے کا نقصان کر دیا۔افسران کی لاپرواہی کے باعث ریسکیو 1122 انتظامیہ نے2017سے آج تک ان گاڑیوں کی خریداری ہی نہیں کی اور گاڑیوں کی قیمتوں میں کئی گنااضافہ ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق

ریسکیو 1122میں مالی بےضابطگیوں کے انکشافات ہوئے ہیں۔افسران کی غفلت نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔ ریسکیو 1122 نے2017 کے اےڈی پی میں325ایمبولینسزخریدنے کی منظوری دی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 45لاکھ روپے کی گاڑی خرید کراسے 25لاکھ روپے خرچ کرکے ایمبولینس میں تبدیلی کرنےکا بجٹ مقررکیاگیا۔افسران کی لاپرواہی کے باعث ریسکیو 1122انتظامیہ نے2017سے آج تک ان گاڑیوں کی خریداری ہی نہیں کی، خریداری نہ ہونے سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کئی گنااضافہ ہوگیاہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب نئےریٹ کےمطابق گاڑی 75 لاکھ اور ایمبولینس میں تبدیلی کاخرچہ 40 لاکھ روپے ہوچکا ہے۔ڈی جی ریسکیو 1122 کی جانب سے گاڑیوں کی خریداری نہ ہونے کےباعث خزانے کو کروڑوں روپے کانقصان ہوا۔ دوسری جانب بڑی بدعنوانی میں افسران کوکلین چٹ جبکہ نچلےعملے کی شامت آ گئی، پولیس ٹریفک پنجاب ہیڈ کوارٹر میں مالی سال 2017اٹھارہ میں فنڈزاور پیٹرول کےاخراجات کی مد میں پونےآٹھ کروڑ کی بدعنوانی ثابت، دوڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی بےگناہ قرار جبکہ اکاونٹنٹ اورکلرک پر کرپشن ثابت ہوگئی. معاملہ اینٹی بدعنوانی کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ گاڑیوں کی خریداری نہ ہونے کےباعث خزانے کو کروڑوں روپے کانقصان ہوا۔ دوسری جانب بڑی بدعنوانی میں افسران کوکلین چٹ جبکہ نچلےعملے کی شامت آ گئی، پولیس ٹریفک پنجاب ہیڈ کوارٹر میں مالی سال 2017اٹھارہ میں فنڈزاور پیٹرول کےاخراجات کی مد میں پونےآٹھ کروڑ کی کرپشن ثابت، دوڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی بےگناہ قرار جبکہ اکاونٹنٹ اورکلرک پربدعنوانی ثابت ہوگئی. معاملہ اینٹی بدعنوانی کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔


Top