You are here
Home > پا کستا ن > بریکنگ نیوز: وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ دوست جہانگیر ترین کا نمبر لگ گیا، اب تک کی بڑی کارروائی ڈال دی گئی

بریکنگ نیوز: وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ دوست جہانگیر ترین کا نمبر لگ گیا، اب تک کی بڑی کارروائی ڈال دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) رپورٹ کے مطابق ‏مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین کو طلب کر لیا۔ ‏جہانگیر ترین کو 19 ستمبر کو ایف آئی اے دفتر لاہور میں طلب کیا گیا ہے، ‏جہانگیر ترین سے جے کے ٹی فارمنگ کے اثاثے خریدنے کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

‏مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جمعہ کوجہانگیرترین کے بیٹےعلی ترین کوبھی طلب کرلیا۔ ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ ‏جہانگیرترین اورعلی ترین ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،‏تحقیقاتی ٹیم جہانگیرترین کےخلاف4بڑےالزامات کی تحقیقات کر رہی ہے،‏ جہانگیر ترین پر15ارب روپے سے زائدکے کارپوریٹ فراڈ کا الزام ہے،‏جہانگیرترین کوجاری نوٹس میں تمام ضر وری دستاویزات ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی،‏ جہانگیر ترین پر یہ الزامات شوگرکمیشن نےاپنی رپورٹ میں لگائےتھے۔ نجی ٹی وی جیو کے پروگرام میں میزبان اینکر کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے جہانگیر ترین سے جے ڈی ڈبلیو کے ذریعے اپنے ہی خاندا ن کی ملکیت کمپنی کے اثاثے خریدنے کی تفصیلات طلب کی ہیں، اس الزام کے حوالے سے شوگر کمیشن رپورٹ میں دعویٰ تھا کہ جہانگیر ترین کی کمپنی نے 3ارب 10کروڑ روپے کا کارپوریٹ فراڈ کیا ہے، رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین نے اپنی ہی کمپنی کی قیمت بڑھا چڑھا کر لگائی پھر پبلک لمیٹڈ کمپنی سے اس کی ادائیگی کرائی یعنی شیئرہولڈرز کو نقصان پہنچایا گیا۔ جہانگیر ترین سے جے ڈی ڈبلیو کی ایک غیرفعال کمپنی فاروقی پلپ لمیٹڈ میں 3ارب 10کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے حوالے سے تفصیلات مانگی گئی ہیں، جہانگیر ترین سے اپنے ملازم کے ذریعہ ایک پبلک لسٹڈ کمپنی سے ڈھائی ارب روپے کیش نکلوانے سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جہانگیر ترین سے جے ڈی ڈبلیو کی ڈھرکی شوگرمل کو 7ارب روپے منتقلی کی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے بھی کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 6 گروپوں نے مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور یہ چینی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 6 گروپوں کے پاس چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 فیصد حصہ ہے اوریہ آپس میں ہاتھ ملا کر مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چینی کی پیداوار پر چند لوگوں کا کنٹرول اور ان میں سے بھی زیادہ تر سیاسی بیک گراؤنڈ والے لوگ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی معاملات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ جہانگیر ترین کے گروپ کی 6 شوگر ملز چینی کی مجموعی ملکی پیداوار کا 19 اعشاریہ 97 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار مخدوم عمر شہریار کے ” آر وائی کے” گروپ کی 6 شوگر ملز ہیں اور یہ 12 اعشاریہ 24 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ المعز گروپ کی 5 شوگر ملز 6 اعشاریہ 80 فیصد اور تاندلیانوالہ گروپ کی 3 شوگر ملز 4 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے اومنی گروپ کی 10 شوگر ملز ہیں اور وہ 1 اعشاریہ 66 فیصد چینی پیدا کرتے ہیں، شریف فیملی کی 9 شوگر ملز 4 اعشاریہ 54 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں،مذکورہ بالا 6 گروپوں کی 38 شوگر ملز چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 اعشاریہ 10 فیصد پیدا کرتی ہیں جبکہ باقی 51 شوگر ملز 49 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔


Top