You are here
Home > پا کستا ن > اب مزید ہم یہ کام نہیں کر سکتے ۔۔۔۔!!! عاصم سلیم باجوہ کا اعلان

اب مزید ہم یہ کام نہیں کر سکتے ۔۔۔۔!!! عاصم سلیم باجوہ کا اعلان

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ گوادر شہر اور بندرگاہ کی تعمیر پر رات دن جاری ہے جس سے خوش حالی آئے گی اور ماضی کی غلطیوں کو سدھارا جائے گا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں چیئرمین

سی پیک اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ’وفاق اور بلوچستان حکومت صوبے میں ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں، جنوبی بلوچستان کی ترقی اور خوش حالی کے لیے حکومتیں پرعزم ہیں‘۔اُن کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان اور سی پیک کے حوالے سے ہونے والے ترقیاتی کام پورے خطے کی ترقی اور خوش حالی کا باعث ہوں گے، ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد خوش حالی آئے گی‘۔عاصم سلیم باجوہ نے لکھا کہ ’ماضی کی غلطیوں کو سدھارجائے گا اور مسائل حل ہوں گے‘۔یاد رہے کہ 27 اگست کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے پاک چین اقتصادی راہداری کے مختلف شعبوں میں 11 سو سے زائد اسامیوں کا اعلان اور اپلائی کے طریقہ کار کا اعلان کیا تھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مختلف شعبوں میں اپلائی کےطریقہ کارکااعلان کرتے ہوئے سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین نے کہا تھربلاک ون کیلئے 11 سو سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کردیے گئے ہیں۔عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ شنگھائی الیکٹرک کےتحت مختلف شعبوں میں روزگارکےمواقع فراہم کیے جائیں گے، ملازمتوں میں مقامی افرادکوترجیحی بنیادوں پر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف قوانین متعین وقت میں منظور نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہو جاتا،فیٹف کے حوالے سے اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ہیں،اپوزیشن کو چاہیے کہ منی لانڈرنگ بل کے حوالے سے عوام کو سچ بتائیں۔نجی ٹی وی چینل “دنیا نیوز” کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی 30 ستمبر تک کی ڈیڈلائن سے متعلق تمام ضروری قانون سازی کر لی گئی ہے ،امید ہے پاکستان کو جلد گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا،فیٹف کی شرط ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں بغیر وارنٹ گرفتاری ہونی چاہیے، کئی ممالک میں ایسے ہی وارنٹ جاری ہوتے ہیں، اپوزیشن میں کچھ غیرت مند پاکستانی ہیں جو ملک کا مفاد مقدم رکھتے ہیں، ایف اے ٹی ایف کے قوانین متعین نہ ہوتے تو پاکستان بلیک لسٹ ہوجاتاتو اسے ”بنانا سٹیٹ “قراردے دیا جاتا۔ایک سوال کے جواب پر وفاقی وزیرقانون نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی 30ستمبر سے جڑی تمام شرائط پوری کر دی ہیں،ہمارے اقدامات کی جانچ کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کے حوالے سے کہا کہ آج اہم ایشو پر اپوزیشن کا رویہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ،فیٹف کے حوالے سے اپوزیشن کے کچھ رہنما عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون پاکستان کے آئین کے خلاف نہیں ہوسکتا، اگر یہ کالا قانون ہے تو اپوزیشن کوئی بھی شق میں خود اسے خذف کروا دوں گا، اپوزیشن کو چاہیے کہ منی لانڈرنگ بل کے حوالے سے عوام کو سچ بتائیں۔وزیرقانون نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت ففتھ جنریشن وار میں پھنسا ہوا ہے،فوج کی بدنامی کے تدارک کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ، فوج کی بدنامی کے ازالے سے متعلق پرائیویٹ ممبر بل کے ذریعے قانون میں ترمیم لارہے ہیں۔


Top