یا اللہ خیر : ملکی تاریخ میں ایک اور خونی الیکشن کا خطرہ۔۔۔۔۔یہ تشویشناک خبر ملاحظہ کیجیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک )ملکی سیاست کے داخلی تپش کے ماحول میں 11مئی2013 کے انتخابات کے نتیجے میں معرض وجو د میں آنے والی 14 ویں قومی اسمبلی بالاخر اپنے 5 سال مکمل کرنے کے بعد تاریخ کا حصہ ہوجائے گی۔11 مئی2013 کو ہونے والے انتخابات خوف، بم دھماکوں اورسیاسی غیریقینی کی کیفیت میں انجام پائے، چند سیاسی جماعتیں معتوب

تھیں اور کچھ محبوب، کیا عجب اتفاق ہے کہ گردش حالات وقت کا پورا چکر لگا کر آج پھر اسی مقام پر ہم سب کو لے آئے ہیں جہاں انتخابات کے خونی ہونے کا خوف ایک بار پھر سر پر منڈ لارہا ہے۔ کل کے معتوب آج کے محبوب ہیں اور آج وہی نظر سے گرا دئیے گئے ہیں جو کل تک دلوں کے قریب تھے۔ ان حالات میں 14 ویں قومی اسمبلی کا 5 سالہ جائزہ بحیثیت مجموعی گنوا دئیے جانے والے سنہرے موقعوں کی بدقسمت داستان لگتی ہے اگر ہم پیچھے مڑ کر اس سفر کا جائزہ لیں تو فقط ایک جملے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس اسمبلی کے سپیکر کی حیثیت سے سردار ایاز صادق کا محض ہنی مون پیریڈ ہی اچھا گزرا اور ایک سال مکمل کرنے کے بعد انہیں پے درپے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔اسمبلی کا ایوان قائد ایوان کی صورت کا ترستا رہا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے باب میں ان کے چار سال اور تین ماہ کے عہد اقتدار میں ایوان میں ان کی فقط 44 حاضریوں کا پتہ دیتا ہے۔ان ہی کے نقش قدم پرچلتے ہوئے وزرا کی خالی نشستیں ایوان کی بے بسی کا پتہ دیتی ہیں اور یوں ملک کے منتخب وزیراعظم نے اسی شاخ کو کمزور کردیا جس پر اس کا بسیرا تھا۔ سپیکرکی کاوشوں کی تلخی ان کے ہر اس لہجے سے نمایاں ہوتی گئی جو کبھی اسمبلی کے اجلاسوں میں وزرا کی عدم موجودگی پر برہمی کی صورت میں سامنے آئی یا پارلیمانی گیلریوں میں سرکاری افسروں کی مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے سپیکر کے حیرت انگیز ترین واک آئوٹ کی صورت میں سامنے آئی۔پارلیمانی رپورٹرز کی حیثیت سے ان پانچ سالوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ مختلف وزارتوں سے جو سوالات کئے جاتے انہیں پڑھ کر قہقہے لگانے کو جی چاہتا۔(ف،م)