آپ کے بارے میں فیصلہ ہو گیا ہے اگلے وزیراعظم آپ ہونگے ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) ’’صحافت اور سیاست‘‘ کے ملاپ کے معنی ہمارے کچھ دوستوں نے یہ لے لئے کہ آپ جتنے سیاست دانوں اور حکمرانوں سے قریب ہوں گے اتنا فائدہ ہے۔ اس نے اچھی خاصی تعداد میں ابن الوقت صحافیوں کی ایک کھیپ کو بھی جنم دیا۔ بہت سے دوستوں نے جو اپنے

نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت کے اچھے مدیر بھی رہے، سیاسی جماعتوں اور حکومتوں میں شمولیت کی حد تک چلے گئے۔ چلیں اگر آپ نے صحافت کو خیرباد کہہ دیا ہے تب بھی غنیمت ہے مگر کبھی سیاست اور کبھی صحافت والا کھیل قلم کی حرمت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ قوانین کی آڑ میں اکثر صحافت پر قدغن لگا دی جاتی ہے۔سرکاری میڈیا پر کبھی عوام کا اعتماد نہیں رہا اس لئے کہ یہاں سے صرف ’’سب اچھا‘‘ کی خبریں آتی ہیں چاہے معاملات کتنے ہی برے ہوں۔ مدیر کا ادارہ ختم ہونے سے ذمہ دارانہ صحافت کو سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ بہت سے مالکان خود مدیر بن بیٹھے اور توجہ خبر سے ہٹ کر اشتہارات پر چلی گئی۔ اشتہارات پر سرکاری کنٹرول کو حکومتوں نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور اب بھی یہی ہورہا ہے۔ اب تو مداخلت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ میڈیا پر دبائو ڈالا جاتا ہے کہ اس اینکر کو رکھ لیں اور اس کو نہ رکھیں۔یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے کئی صحافیوں نے صحافت کی حدود پار کی ہیں۔ ہم سیاست دانوں اور حکمرانوں کے اتنے قریب چلے گئے کہ کبھی انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ الیکشن ملتوی کردیں ورنہ بھٹو جیت جائے گا، کبھی شہباز شریف کے پاس پیغام لے کر پہنچ جاتے ہیں کہ آپ کے بارے میں فیصلہ ہو گیا ہے کہ آئندہ وزیراعظم آپ ہوں گے۔وہ بھولے بادشاہ بھی کابینہ بنانے ان کے پاس پہنچ گئے ’’ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی /کچھ ہماری خبر نہیں آتی‘‘۔ اب مجھے نہیں پتا کہ ڈاکیے نے غلطی سے بنی گالہ کا پیغام ’’جاتی امرا‘‘ پہنچا دیا یا شہباز صاحب کو ’’ماموں‘‘ بنادیا

مگر ہمارے دوست کب تک ڈاکیے کا کام کرتے رہیں گے۔ ہمارے کپتان کو بھی ایسے ہی صحافیوں کا سامنا رہا۔ کچھ بھائی لوگوں نے تو پارٹی کا جھنڈا بھی تھام لیا۔آج وزیراعظم کو یہ محسوس ہورہاہے کہ میڈیا ان کے خلاف اور ان کی کابینہ خوف زدہ ہے۔ ہر حکمران کو تنقید کا سامنا رہا ہے مگر آپ کے اچھے کام بولتے ہیں۔ لہٰذا میڈیا پر دبائو کی پالیسی ترک کردیں۔بے نظیر بھٹو ے ایک بار میں نے کہا کہ آپ بہت سے صحافیوں پر ایجنسیوں کے لئے کام کرنے کا الزام لگاتی ہیں ۔ اب آپ وزیراعظم ہیں وہ نام معلوم کریں اور فہرست شائع کریں۔ یہ بات 1988کی ہے۔کچھ عرصے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو بولیں، ’’مظہر، ان میں سے بہت سے لوگ ہمارے حق میں بھی لکھتے ہیں‘‘۔ میں نے جواب دیا، ’’آپ کیوں سمجھتی ہیں وہ آپ کے ساتھ ہیں‘‘۔ پاکستان میں صحافیوں کی طویل جدوجہد آزادی صحافت، بہتر حالت کار اور اپنے پیشہ سے وفا کے لئے رہی ہے کیونکہ سچ جاننا لوگوں کا حق ہے۔جب یہ صحافی قید میں تھے تو وہاں سے بھی ہفت روزہ ’’زندان‘‘ نکالا کرتے تھے۔ ویکلی ویو پوائنٹ کے ایڈیٹر ان چیف مظہر علی خان اور دوسرے ساتھی گرفتار ہوئے تو لاہور قید خانے سے خبریں بھیجتے اور رسالہ وہیں تیار ہوتا۔ہائبرڈ وار اچھی صحافت کو دبا کر نہیں جیتی جا سکتی بلکہ طاقتور میڈیا وقت کی ضرورت ہے۔ خدارا صحافت کو اٹھائیں صحافی کو نہیں۔ صحافت اور خبر کی بنیاد سچ پر نہ ہو تو وہ محض ’’کاروبار‘‘ ہے۔ہمیں ہی جرات اظہار کا سلیقہ ہے۔۔صدا کا قحط پڑے گا تو ہم ہی بولیں گے۔ (ش س م)