سی سی پی او لاہور کا ایکشن: انسپکٹر سمیت 4 تھانیداروں کو حوالات میں ڈال دیا مگر کیوں؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جا ئیں

لاہور (ویب ڈیسک) سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے گزشتہ برس کرول جنگل میں نجی ٹارچر سیل بنانے والے انسپکٹر سمیت 4 تھانیداروں کو حوالات میں بند کردیا۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے حکم پر انسپکٹر رضا، اے ایس آئی ارشاد، عمران اور شہزاد کو حوالات میں بند کردیا گیا۔ ان اہلکاروں

پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس کرول جنگل میں نجی ٹارچر سیل بنایا ہوا تھا جہاں یہ شہریوں کو محبوس رکھ کر ان پر تشدد کیا کرتے تھے۔ ان اہلکاروں کے تشدد سے ایک شخص امجد ذوالفقار کی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی ۔سی سی پی او لاہورعمر شیخ کا کہنا ہے کہ پولیس کی پولیسنگ ضروری ہے ، غیر قانونی حراست، نجی ٹارچر سیل اور تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے حکم پر گرفتار ہونے والے انسپکٹر احمد رضا جعفری نے دھمکی دی ہے کہ وہ بیوی بچوں سمیت سی سی پی او کے دفتر کے باہر خود کشی کرلیں گے۔پولیس حراست میں موجود انسپکٹر احمد رضا جعفری نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ڈیڑھ سال پہلے چند منشیات فروشوں کو گرفتار کیا تھا جنہیں فرار کروادیا گیا، اس کے بعد ایک شخص ہارٹ اٹیک سے مرگیا جس کا الزام ہم پر ڈال دیا گیا۔ یہ معاملہ ختم ہوگیا تھا لیکن ڈیڑھ سال بعد سی سی پی او نے ہمیں اپنے دفتر بلا کر غلیظ گالیاں دیں اور ہمیں گرفتار کروادیا۔انسپکٹر احمد رضا جعفری نے دھمکی دی کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سی سی پی او کے دفتر کے سامنے خود کشی کرلیں گے۔خیال رہے کہ یہ وہی انسپکٹر احمد رضا ہیں جن پر گزشتہ برس کرول باغ میں نجی ٹارچر سیل بنانے کا الزام لگا تھا۔ اس ٹارچر سیل کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص امجد ذوالفقار کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا دیکھا گیا تھا اور وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔اسی کرول جنگل میں نجی ٹارچر سیل کے واقعے پر ایکشن لیتے ہوئے سی سی پی او کے حکم پر انسپکٹر سمیت 4 اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔