کئی بار سر پیٹ چکا ہو ں کہ اسلام آباد میں ۔۔۔۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا ناقابل یقین بیان ، جان کر سب کے لیے یقین کرنا مشکل

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ کئی بار کہہ چکے کہ اسلام آباد میں لاقانونیت ہے۔ایک کیس کی سماعت دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج جہانگیر اعوان فائرنگ واقعے سے متعلق ریمارکس دیے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا کل ریڈ زون میں ؎

کیا ہوا، کل ریڈ زون میں ایک شخص نے فائرنگ کی، ریڈ زون میں لڑائی کے دونوں فریق بااثر ہیں۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے مزید کہا کہ ریاست کی رٹ بھی تو کہیں ہونی چاہیے، ریاست بھی تو کسی چیز کی ذمے داری لے۔کیس کی سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام بڑے آدمی سمجھوتہ کیوں کرتے ہیں، انہوں نے کبھی نہیں سنا کہ کسی مہذب معاشرے میں ایسے سمجھوتے ہوتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے حوالے سے خاتون صحافی فریحہ ادریس کا انکشاف، ملزمان واردات کے بعد گاڑی میں 1 ہزار روپے چھوڑ کر گئے، متاثرہ خاتون نے پولیس سے رابطہ کر کے لوکیشن شیئر کی، 1 ہزار روپے کا پٹرول مانگا، 2 گھنٹے انتظار کے بعد پولیس کی بجائے ڈاکو آگئے، زیادتی واقعے کے بعد مجرمان جاتے ہوئے گاڑی کے ڈیش بورڈ پر 1 ہزار روپے کا نوٹ چھوڑ کر گئے۔ خاتون صحافی اور اینکر پرسن فریحہ ادریس کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بڑا انکشاف کیا گیا ہے۔ فریحہ ادریس کا بتانا ہے کہ موٹروے پر جب متاثرہ خاتون کا پٹرول ختم ہوا تو انہوں نے پولیس کو کال کر کے ایک ہزار روپے کا پٹرول مانگا تھا، جبکہ وہاں واردات ہوئی تو مجرمان واپس جاتے ہوئے 1 ہزار روپے کا نوٹ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر چھوڑ کر گئے۔فریحہ ادریس کا بتانا ہے کہ وہ متاثرہ خاتون سے رابطے میں ہیں۔ خاتون کی گاڑی خراب ہوئی تو انہوں نے پولیس سے رابطہ کیا لیکن 2 گھنٹے تک وہاں کوئی نہیں آیا۔ خاتون نے بذریعہ وٹس ایپ پولیس سے اپنی لوکیشن بھی شیئر کی تھی۔ مدد کیلئے رابطہ کیے جانے پر پولیس نے خود خاتون سے لوکیشن کی تفصیلات مانگی تھیں تاہم مدد کیلئے کوئی نہیں آیا۔ خاتون نے باقاعدہ ویڈیو بھی بنائی کہ جب انہوں نے مدد طلب کی تو اس کے 2 گھنٹے تک پولیس نہیں آئی۔خاتون نے اب دوران تفتیش پولیس سے وہ نمبر بھی شیئر کیا ہے جس پر لوکیشن شیئر کی گئی تھی۔ جبکہ متاثرہ خاتون نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار ملزم شفقت نے دوران تفتیش جو تفصیلات بتائی ہیں وہ کافی حد تک درست ہیں۔ واضح رہے کہ سانحہ گجر پورہ کا شفقت نامی ایک ملزم گرفتار کیا جا چکا، جبکہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ پنجاب پولیس اور صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملزم عابد علی جلد پولیس کی تحویل میں ہوگا۔