You are here
Home > پا کستا ن > وزیر اعظم عمران خان لکیر کے فقیر ،، مجھے پورا یقین ہے یہ چند لوگ پاکستانیوں کے کپتان کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔ کالم نگار توفیق بٹ نے حیران کن بات کہہ ڈالی

وزیر اعظم عمران خان لکیر کے فقیر ،، مجھے پورا یقین ہے یہ چند لوگ پاکستانیوں کے کپتان کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔ کالم نگار توفیق بٹ نے حیران کن بات کہہ ڈالی

لاہور(ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔یہ سلسلہ جس سیاسی حکمران نے شروع کیا انتظامی ڈھانچے کو ”دفنانے“ کا سب سے بڑا ذمہ دار وہ ہے، اور وہ افسران بھی اس انتظامی ڈھانچے کو دفنانے کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جنہوں نے سیاسی حکمرانوں کی خوشنودی

حاصل کرنے کے لیے اُن کے اِس عمل کو دل وجان سے قبول کرلیا، اُس وقت کے کسی چیف سیکرٹری کسی آئی جی نے اس غیرقانونی روایت یا اقدام کی مخالفت کی ہوتی، حکمرانوں کی ضد پر اپنے عہدے چھوڑدیئے ہوتے آج ادارے اِس قدرتباہ نہ ہوتے جس قدر ہوچکے ہیں، میرے نوٹس میں ایک افسر یا پولیس افسر ایسا نہیں جسے کسی سیاسی حکمران نے کسی اہم عہدے پر تعینات کرنے کے لیے بلایا ہواوراُس نے یہ کہہ کر بڑے ادب سے معذرت کرلی ہو میں اپنے ادارے کے سربراہ کو ایک ہزار بار انٹرویودینے کا پابند ہوں، پر ماورائے آئین یا قانون کسی ایسے سیاسی حکمران کو انٹرویو دینے کا پابند نہیں جس کی قابلیت مجھ سے کم ہو،…. چلیں کسی حکومت کے سربراہ کسی وزیراعلیٰ یا گورنر کو اپنی اہم پوسٹنگ کے لیے انٹرویو دینے کے لیے جانے یا اُن کے دفتروں میں گھنٹوں بیٹھ کر اپنی باری کی بے عزتی برداشت کرنے کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈا، نکالا یا تراشا جاسکتا ہے، یہاں یہ بھی ہوتا رہا ہے کچھ وزرائے اعلیٰ اپنا یہ ”اختیار“ اپنے صاحبزادوں یادیگر عزیزوں کو منتقل کرتے رہے ہیں۔ شہباز شریف اور چودھری پرویز الٰہی جب وزرائے اعلیٰ تھے مختلف عہدوں پر تعیناتی کے لیے بے شمار افسران کے انٹرویوزاُن کے ”صاحبزدگان“ بھی لیا کرتے تھے، جس افسر کے بارے میں اُنہیں یقین ہو جاتا وہ اُن کی ذاتی وفاداری وخوشامد کے معیار پر پورا اُترنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اُسے تعینات کردیا جاتا ۔ وزیراعظم کے چونکہ ”صاحبزادے“ وغیرہ پاکستان میں نہیں تو اُنہوں نے پچھلے حکمرانوں کی روایت میں اپنا یہ ”اختیار“ اپنے کچھ ایسے غیرمنتخب مشیروں کو بھی سونپ دیا ہے جو اللہ جانے کہاں سے آئے ہیں؟ وہ کہیں سے بھی آئے ہوں ، مجھے یقین ہے خان صاحب کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔


Top