سابق سیکشن آفیسر و سپیشل سیکریٹری وزیر ،ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اشتیاق احمد نے قانون کی دھجیاں بکھیر دیں ، تہلکہ خیز تفصیلات

لاہور(ویب ڈیسک) نجی یونیورسٹیز کے کیمپسز کو مبینہ طور پر بند کرانے اور ایکریڈیشن کے معاملات کو لٹکا کر ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والے سابق سیکشن آفیسر و سپیشل سیکرٹری وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب اشتیاق احمد کی پی ایچ ڈی ڈگری مشکوک نکلی۔باوثوق ذرائع کے مطابق اشتیاق احمد نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرکے


گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد (GCUF)سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی جبکہ اس دوران کورس ورک اور ریسرچ ورک میں اپنے محکمہ سے کوئی چھٹی تک لینا گوارہ نہ کی۔پی ایچ ڈی میں کورس ورک کے 18کریڈٹ آورز پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔سابق سیکشن آفیسر کی پرسنل فائل کے ریکارڈ کیمطابق پی ایچ ڈی کے لئے کوئی چھٹی نہیں لی اور لاہورمیں تعینات رہ کر فیصل آباد سے پی ایچ ڈی کر لی جو ڈگری ریکوائرمنٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔واضح رہے کہ اشتیاق احمد جو کالج کیڈر لیکچرر ہے اور ڈیپوٹیشن کے باعث سیکشن آفیسر اور صوبائی وزیر برائے ہائر ایجوکیشن راجایاسر ہمایوں کا سپیشل سیکرٹری رہا ہے جس کی غیر قانونی ڈیپوٹیشن،کرپشن اورجامعات کے معاملات کو لٹکانے پر پنجاب اسمبلی میں جون 2019ء کو تحریک ِ التوا پیش کی جا چکی ہے جبکہ سابق ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ ہائر ایجوکیشن مریم کیانی بھی جنوری 2018 ء میں محکمہ کی بدنامی کا باعث بننے والے اشتیاق احمد و دیگر ڈیپوٹیشن مافیا کو واپس پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ بھجوانے کی سفارشات دے چکی ہیں۔اسی طرح حاضر سروس وفاقی سیکرٹری جو سیکرٹری ایچ ای ڈی رہ چکے ہیں نے بھی اس مافیا کیخلاف کاروائی کرنے کی کوشش کی تو ان کا تبادلہ ہو گیا۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اشتیاق احمدایچ ای ڈی سے نکالے جانے کے باوجود وزیر ہائر ایجوکیشن کی آشیر باد سے محکمہ کے تمام معاملات پر گرفت رکھے ہوئے ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹرز یونیورسٹیز پنجاب نے اپنی جاری کردہ پریس ریلیز میں اس مافیاکے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری عبدالرحمن گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات میں نجی یونیورسٹیز کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کر چکے ہیں جس پر وزیر اعلیٰ نے ہائر ایجوکیشن پنجاب کی اصلاحاتی کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے اور ریفارمز کمیٹی کے امور کی نگرانی خود کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔