ایسا انصاف ہو گا کہ پوری دنیا دیکھے گی ۔۔۔!!! عثمان بزدار کا ملزمان کو نشان عبرت بنانے کا دبنگ اعلان

لاہور( ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے موٹر وے پر خاتون سے پیش آنے والے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیتے ہوئےکہا کہ ملزمان کو فی الفور قانون کی گرفت میں لایا جائے اورمتاثرہ خاتون کو ہر

صورت انصاف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایسے افسوسناک واقعہ میں ملزمان قانون کے تحت قرار واقعی سزا کے حقدار ہیں۔انہوںنے کہا کہ موٹروے پر خاتون سے افسوسناک واقعہ پر پیش رفت کا ذاتی طورپر جائزہ لے رہا ہوں۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کیلئے ہدایات دی ہیں۔ملزمان کا سراغ لگانے کیلئے سائنٹفک اورجدید انداز سے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ملزمان نے انتہائی گھناؤنے فعل کاارتکاب کیاہے۔ خاتون کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو سخت سزا بھگتنا ہوگی۔ متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے اوراس کیس میں ہرصورت نہ صرف انصاف ہوگابلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت میں واقع گجر پورہ میں خاتون پر تشدد اور زیادتی کرنے والے ملزمان کے گاؤں کی شناخت ہوگئی۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ گجر پورہ زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے تحقیقات کر کے ملزمان کے گاؤں کا سراغ لگا لیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ڈنڈوں سے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر شیشہ توڑ کر انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی میڈیکل رپورٹ میں بھی تصدیق ہوگئی ہے۔دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نےسیل شدہ سیمپل پنجاب فرانزک لیب بھیج دیے جبکہ 5کلومیٹر علاقے کی تلاشی لی گئی اور تین مقامات کی جیو فینسنگ مکمل کرلی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس نےعلاقےکے سابقہ ریکارڈیافتہ ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے، کرول گاؤں اور اطراف میں پولیس کی 26 ٹیمیں موجود ہیں جبکہ تفتیشی ٹیم جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کا کام کررہی ہے۔پولیس نے تین مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس جدید انداز سے کیس کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے، اب تک چودہ افراد کو حراست لے لیا گیا ہے۔دوسری جانب سی سی پی او لاہور نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم ملزمان کے قریب پہنچ گئے اور انہیں 48 گھنٹوں میں گرفتار کرلیں گے۔